تازہ ترین
بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے
بلوچستان خبر

نرسنگ طالبہ کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے کے معاملے پر تنازع کھڑا

نرسنگ طالبہ کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے کے معاملے پر تنازع کھڑا

کوئٹہ( بلو چستان خبر) کوئٹہ کی ایک نرسنگ طالبہ کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے کے معاملے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے، جہاں اہل خانہ نے گمشدگی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کو قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق خدیجہ بنت پیر جان، جو بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل میں مقیم تھیں، کو مبینہ طور پر نامعلوم حالات میں لے جایا گیا جس پر اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب بولان میڈیکل کالج اسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نسیم کاکڑ نے بطور احتجاج اسپتال بند کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چوبیس گھنٹوں میں طالبہ کو پیش نہ کیا گیا تو شہر کے دیگر اسپتال بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب حکومت بلوچستان نے جبری گمشدگی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق خدیجہ کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دہشت گرد عناصر کی معاونت کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کو صوبائی حکومت کے قانونی احکامات کے تحت ایک حراستی مرکز منتقل کیا گیا ہے اور اس حوالے سے اہل خانہ کو بھی ضابطے کے مطابق آگاہ کیا گیا ہے۔سرکاری مؤقف کے مطابق تمام کارروائی طے شدہ قوانین اور طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہے اور عوام سے غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں بلوچستان کی جامعات اور ہاسٹلز سیکیورٹی حوالے سے توجہ کا مرکز رہے ہیں، جہاں ماضی میں بعض افراد کی گرفتاریوں کے بعد تحقیقات بھی کی گئی تھیں۔