کوئٹہ( بلو چستان خبر) کوئٹہ کی ایک نرسنگ طالبہ کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے کے معاملے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے، جہاں اہل خانہ نے گمشدگی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کو قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق خدیجہ بنت پیر جان، جو بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل میں مقیم تھیں، کو مبینہ طور پر نامعلوم حالات میں لے جایا گیا جس پر اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب بولان میڈیکل کالج اسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نسیم کاکڑ نے بطور احتجاج اسپتال بند کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چوبیس گھنٹوں میں طالبہ کو پیش نہ کیا گیا تو شہر کے دیگر اسپتال بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب حکومت بلوچستان نے جبری گمشدگی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق خدیجہ کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دہشت گرد عناصر کی معاونت کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کو صوبائی حکومت کے قانونی احکامات کے تحت ایک حراستی مرکز منتقل کیا گیا ہے اور اس حوالے سے اہل خانہ کو بھی ضابطے کے مطابق آگاہ کیا گیا ہے۔سرکاری مؤقف کے مطابق تمام کارروائی طے شدہ قوانین اور طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہے اور عوام سے غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں بلوچستان کی جامعات اور ہاسٹلز سیکیورٹی حوالے سے توجہ کا مرکز رہے ہیں، جہاں ماضی میں بعض افراد کی گرفتاریوں کے بعد تحقیقات بھی کی گئی تھیں۔
نرسنگ طالبہ کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے کے معاملے پر تنازع کھڑا
3 دن قبل