کبھی کبھی حکومتیں ایسے فیصلے کرتی ہیں جو صرف ایک انتظامی حکم نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کی فکری معاشی اور جمہوری ساخت پر ضرب ثابت ہوتے ہیں بلوچستان حکومت کی متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی بھی ایسا ہی ایک فیصلہ دکھائی دیتی ہے جس کے اثرات اب سینکڑوں گھروں کے چولہوں کی بجھی ہوئی آگ میں صاف نظر آ رہے ہیں صوبائی کابینہ کے ایوانوں میں شاید یہ پالیسی ایک فائل تھی ایک تجویز تھی یا ایک انتظامی اقدام تھا مگر ان خاندانوں سے جا کر پوچھئے جن کے گھر کا واحد کفیل کسی مقامی اخبار میں ملازم تھا ان صحافیوں سے پوچھئے جنہوں نے دہائیوں تک بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کی خبریں جمع کیں ان پروف ریڈرز کمپوزرز ڈسٹری بیوٹرز اور دیگر کارکنوں سے پوچھئے جن کی زندگیاں ایک دستخط کے ساتھ بے یقینی کے اندھیروں میں دھکیل دی گئیں
افسوس اس بات کا نہیں کہ حکومت نے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کی افسوس اس بات کا ہے کہ اس تبدیلی کی قیمت مقامی صحافت کی لاش پر ادا کی گئی ترقی یافتہ دنیا میں ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوتا ہے یہاں اس کا مطلب سینکڑوں لوگوں کو بیروزگار کرنا بن گیا حکومت کو شاید بتایا گیا ہوگا کہ اخبارات پر خرچ ہونے والے وسائل سے بلوچستان میں کئی یونیورسٹیاں قائم ہو سکتی ہے کئی کارخانے لگائیں جا سکتے ہیں کئی اسپتالوں میں جدید مشینیں لگائی جا سکتی ہیںں مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ مقامی اخبارات صرف کاغذ کے چند صفحات نہیں ہوتے یہ معاشرے کی اجتماعی یادداشت ہوتے ہیں یہ وہ آواز ہوتے ہیں جو دور دراز علاقوں کے مسائل کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جب یہ آوازیں خاموش ہوتی ہیں تو صرف ادارے نہیں مرتے جمہوریت بھی کمزور ہوتی ہے اس سارے منظرنامے کا سب سے افسوسناک پہلو وہ خاموشی ہے جو ان لوگوں نے اختیار کی جنہیں صحافت کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے ایسے افراد جو کبھی صحافیوں کے حقوق کی بات کرتے تھے آج اقتدار کے قریب کھڑے ہو کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی قربت ہمیشہ مستقل نہیں رہتی مگر عوامی اعتماد کھو جائے تو اسے واپس حاصل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اسی طرح ان منتخب نمائندوں سے بھی سوال بنتا ہے جو عوام کے ووٹ سے اسمبلیوں تک پہنچے ہیں بلے وہ سلیکٹڈ ہو لیکن اس وقت وہ عوام کی نمائیدگی کر رہے ہیںں اگر مقامی میڈیا مقامی روزگار اور اظہارِ رائے کے تحفظ کے وقت بھی وہ خاموش رہیں تو پھر ان کی نمائندگی کا مقصد کیا رہ جاتا ہے کیا ان کا فرض صرف حکومتی فیصلوں پر مہر لگانا ہے یا عوام کے مفادات کا دفاع کرنا بھی شامل ہیں
اقتدار کے ایوانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اعداد و شمار اور فائلوں میں نظر نہ آنے والے زخم بھی تاریخ میں اپنا حساب مانگے گے بیروزگار ہونے والے ہر کارکن کے گھر کی خاموشی ایک سوال ہے کیونکہ یہ لوگ بے بس ہیں ہر بند ہونے والا اخبار ایک احتجاج ہے ہر مایوس صحافی جمہوری عمل پر اٹھنے والا ایک سوالیہ نشان ہے شاید آج طاقت کے ایوان مطمئن ہوں شاید آج مخالف آوازیں کمزور دکھائی دے رہی ہوں لیکن تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب ریاستیں تنقید سے خوف کھانے لگیں اور مقامی آوازوں کو غیر ضروری سمجھنے لگیں تو نقصان صرف میڈیا کا نہیں ہوتا پورے نظام کا ہوتا ہے بلوچستان کو خاموش اخبارات نہیں مضبوط صحافت کی ضرورت ہے اس صوبے کو صرف تعریفیں لکھنے والے قلم کاروں کی جگہ سوال پوچھنے والے صحافی درکار ہیں کیونکہ جس دن معاشرے سے سوال ختم ہو جائیں اس دن زوال کا سفر شروع ہو جاتا ہے
اور اگر واقعی اس پالیسی کے نتیجے میں سینکڑوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے تو حکومت پر لازم ہے کہ اس فیصلے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں اور ایسا راستہ اختیار کرے جس میں جدیدیت بھی ہو اور روزگار کا تحفظ بھی بصورت دیگر یہ پالیسی انتظامی کامیابی نہیں بلوچستان کی مقامی صحافت کے زخموں میں لکھی جانے والی ایک تلخ داستان بن جائے گی