تازہ ترین
نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے ذہنی امراض سے متعلق آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرہ خان
بلوچستان خبر

نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے

نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے


نوشکی، بلوچستان: اطلاعات کے مطابق کالعدم بی ایل اے سے منسوب مسلح عناصر نے نوشکی کے علاقے میں متعدد ٹرکوں کو آگ لگا دی۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹرک بلوچ تاجروں کی ملکیت تھے جنہوں نے مبینہ طور پر بھتہ دینے سے انکار کیا تھا۔

واقعے کے بعد تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے حملے بلوچستان کے عام شہریوں، تاجروں اور روزگار سے وابستہ خاندانوں کو براہ راست نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں اس دعوے کی نفی کرتی ہیں کہ کالعدم تنظیم عام بلوچ عوام کے حقوق کے لیے سرگرم ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر مقامی لوگوں کی گاڑیاں، کاروبار اور روزگار ہی محفوظ نہیں تو ایسی کارروائیاں آزادی کی نہیں بلکہ خوف، بھتہ خوری اور معاشی تباہی کی علامت ہیں۔

متاثرہ تاجروں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارتی راستوں، ٹرانسپورٹرز اور مقامی کاروباری طبقے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔