تازہ ترین
ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ سہولت کاری: پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر خطے کا ابھرتا ہوا ٹیک ہب بن گیا، اسٹارٹ اپ ویلیو 4 ارب ڈالر سے تجاوز بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور
بلوچستان خبر

بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم

بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم

کوئٹہ (ویب ڈیسک): محکمہ صحت بلوچستان نے سروس رولز اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی، ہڑتال اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے 23 ڈاکٹروں کو معطل اور 25 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، پوسٹ گریجویٹ تربیتی پروگرام (PG) سے وابستہ 5 ٹرینی ڈاکٹروں کی رجسٹریشن بھی معطل کر کے ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔


لازمی سروسز میں ہڑتال غیر قانونی ہے: محکمہ صحت

محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق، معزز عدلیہ کے احکامات کے تحت انسانی جانوں اور صحت سے متعلقہ اداروں میں ہڑتال یا کام کی بندش سراسر غیر قانونی اقدامات ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام سرکاری طبی ادارے کھلے رہیں گے اور لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


"صحت کا شعبہ براہ راست انسانی جانوں سے وابستہ ہے، اس لیے عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی اقدام یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔"


ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام

طبی اداروں میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے، سینئر ڈاکٹرز کی تجویز پر حکومتِ بلوچستان نے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس کمیٹی میں صوبائی حکومت کے اعلیٰ افسران، سینئر ڈاکٹرز، محکمہ صحت کے نمائندے اور سیکیورٹی حکام شامل ہوں گے جو اسپتالوں میں امن و امان اور ڈاکٹروں کے تحفظ کا جائزہ لیں گے۔


اصلاحات اور احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

صوبائی حکومت نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری طبی اداروں میں بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ ڈاکٹر برادری کے جائز مسائل کے حل اور ہیلتھ سسٹم کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم قانون اور سروس رولز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام معطل شدہ کیسز میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق اور ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا۔