تازہ ترین
زہری واقعہ اور کریک ڈاؤن کے خلاف بلوچستان میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، کاروباری سرگرمیاں معطل صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے ذہنی امراض سے متعلق آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرہ خان ارمان ملک کا بیوی کے لباس پر تبصرہ، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی امتیاز علی نے کالج کے دنوں میں اغوا ہونے کا واقعہ سنا دیا جگاپتی بابو کی جھانوی کپور کے حق میں آواز، ذاتی حملوں پر تنقید
بلوچستان خبر

بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟


بلوچستان آج صرف پانی کی کمی کا شکار نہیں بلکہ ایک "ہائیڈرو لوجیکل ایمرجنسی" سے گزر رہا ہے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی اس رفتار سے نیچے جا رہا ہے کہ ماہرین اسے "Aquifer Mining" یعنی زیر زمین آبی ذخائر کی لوٹ مار قرار دے رہے ہیں۔

کوئٹہ، پشین، مستونگ اور قلعہ عبداللہ کی وادیاں، جو کبھی بلوچستان کی زرعی شہ رگ سمجھی جاتی تھیں، آج شدید آبی دباؤ کا شکار ہیں۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق کوئٹہ وادی میں زیر زمین پانی کی سطح ہر سال 1.5 سے 5 میٹر (5 تا 16 فٹ) تک نیچے جا رہی ہے، جو دنیا کے کئی خشک علاقوں کے مقابلے میں انتہائی تشویشناک شرح ہے۔ 

کئی علاقوں میں جہاں 30 یا 40 سال پہلے 100 سے 150 فٹ کی گہرائی پر پانی دستیاب تھا، آج کسانوں کو 700 سے 1000 فٹ بلکہ بعض مقامات پر 1000 سے 2000 فٹ تک بورنگ کرنی پڑ رہی ہے۔ 

المیہ صرف یہ نہیں کہ پانی کم ہو رہا ہے بلکہ اس کی کوالٹی بھی تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ کوئٹہ وادی کے متعدد تحقیقی جائزوں میں نائٹریٹ، آرسینک، سیلینیم اور دیگر آلودہ عناصر کی موجودگی پائی گئی ہے جو انسانی صحت اور زرعی پیداوار دونوں کے لیے خطرناک ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق کوئٹہ اور گرد و نواح میں 30 ہزار سے زائد ٹیوب ویل کام کر رہے ہیں جن میں سے بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ ہے۔ یہ ٹیوب ویل قدرتی ری چارج سے کہیں زیادہ رفتار سے پانی نکال رہے ہیں، جس کے باعث زیر زمین ذخائر کو بحال ہونے کا موقع نہیں مل رہا۔ 

سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی حالیہ تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے کہ 2002 سے 2023 کے دوران کوئٹہ وادی میں زمینی آبی ذخائر مسلسل کم ہوتے رہے ہیں اور ان میں بحالی کے آثار نہ ہونے کے برابر ہیں۔


اس بحران کا ایک اور خوفناک پہلو زمین کا دھنسنا (Land Subsidence) ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق کوئٹہ وادی میں زیر زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کے باعث بعض علاقوں میں زمین تقریباً 10 سینٹی میٹر سالانہ دھنس رہی ہے، جو مستقبل میں انفراسٹرکچر اور آبادی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

آئندہ بجٹ میں کیا ہونا چاہیے؟

بلوچستان کے لیے "واٹر ایمرجنسی پیکیج"۔

کم از کم 100 چھوٹے اور درمیانے ڈیموں کی تعمیر۔

کاریز نظام کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈ۔

ڈرپ اور سپرنکلر آبپاشی پر 80 فیصد سبسڈی۔

غیر رجسٹرڈ ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن اور نگرانی۔

بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ضلع سطح پر منصوبے۔

زیر زمین پانی کی نگرانی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام۔

پانی زیادہ استعمال کرنے والی فصلوں کے بجائے کم پانی والی فصلوں کی حوصلہ افزائی۔


بلوچستان کے کسان کو آج کھاد سے زیادہ پانی کی ضرورت ہے۔ اگر پانی نہ رہا تو سبسڈی، قرضے، پیکیجز اور ترقیاتی منصوبے سب بے معنی ہو جائیں گے۔ یہ صرف زرعی بحران نہیں بلکہ غذائی سلامتی، دیہی معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اگر آج بلوچستان کے پانی کو بچانے کے لیے غیر معمولی فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ سوال نہیں ہوگا کہ فصل کتنی ہوئی، بلکہ یہ ہوگا کہ زمین پر زندگی کیسے برقرار رکھی جائے۔

آصف جون

تحریر

آصف جون