کوئٹہ – ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) خواتین ونگ نے صوبائی دارالحکومت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے، جس میں ہسپتالوں میں ناقص سکیورٹی انتظامات، پیشہ ورانہ مسائل اور حالیہ پرتشدد واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
### تیزاب گردی کا واقعہ اور ڈاکٹرز میں پھیلا ہوا خوف
پریس کانفرنس کے دوران خواتین ڈاکٹرز نے حالیہ تیزاب گردی کے لرزہ خیز واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے سول ہسپتال کوئٹہ کی سکیورٹی اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خواتین طبی عملے کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر محفوظ حالات میں فرائض کی انجام دہی اب ناممکن ہو چکی ہے۔
"طبی عملے کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب تک ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، خوف کا یہ ماحول ختم نہیں ہو سکتا۔"
### آواز اٹھانے پر برطرفیاں اور مفت طبی خدمات کا اعلان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی رہنماؤں نے صوبائی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکشاف کیا کہ اپنے جائز حقوق اور تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے پر خواتین ڈاکٹرز کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے۔
تاہم، انتظامیہ کے اس سخت رویے کے باوجود، خواتین ڈاکٹرز نے مریضوں کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کے باوجود غریب اور مستحق مریضوں کی خاطر مفت طبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم نہ ہونا پڑے