مقامی ذرائع کے مطابق، سنہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس شاہراہ کو شدید نقصان پہنچایا تھا، تاہم چار سال گزرنے کے باوجود حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کی مکمل بحالی کے لیے کوئی مؤثر یا خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ سڑک جگہ جگہ سے دھنس چکی ہے، کازویز ٹوٹ چکے ہیں اور گہرے گڑھے کسی بڑے حادثے کو دعوت دے رہے ہیں۔
ڈیڑھ گھنٹے کا سفر چار گھنٹوں میں تبدیل
پہاڑی اور پیچیدہ راستہ ہونے کی وجہ سے یہ سڑک پہلے ہی دشوار گزار تھی، لیکن موجودہ ٹوٹ پھوٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
وقت کا ضیاع: ماضی میں ڈھاڈر سے شوران کا جو سفر محض ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا تھا، اب وہ بڑھ کر 3 سے 4 گھنٹے لے رہا ہے۔
محدود حدِ نگاہ (Visibility): سڑک کے دونوں اطراف جنگلی جھاڑیوں کی بھرمار اور ختم ہوتے ہوئے شولڈرز کی وجہ سے حادثات کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
طبی ہنگامی صورتحال: سڑک کی ابتر حالت کے باعث کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو وقت پر ڈھاڈر یا کوئٹہ منتقل کرنا ناممکن ہو چکا ہے، جس سے قیمتی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔
تجارتی نقصانات: سڑک کی بدحالی نے مقامی تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ مال بردار گاڑیوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کو روزانہ بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
حکومتِ بلوچستان سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ عوام نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ محکموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈھاڈر تا شوران لنک روڈ کی تعمیرِ نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ مقامی بحران کا خاتمہ ہو سکے