تازہ ترین
2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا کام نہ ہو سکا اوچ پاور پلانٹ مرکزی ٹاور دھماکے سے تباہ، بجلی منقطع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں ’شندور پولو فیسٹیول 2026‘ کا رنگا رنگ آغاز، گورنر کے پی کے نے افتتاح کر دیا چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان وفاقی بجٹ 2026-27: حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد رکھنے کی تجویز؛ تنخواہ دار طبقے کیلئے 50 ارب کا ٹیکس ریلیف متوقع طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی شرکت وزیر اعظم شہباز شریف سے ارکانِ قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر مشاورت بین اسٹوکس کی ڈسپلن خلاف ورزی پر ڈراپ، سابق کپتانوں کا ملا جلا ردعمل صومالیہ کے ریفری عمر عبدالقادر ارتان کی وطن واپسی پر شاندار استقبال آئی سی سی فیصلے کے بعد آسٹریلوی ویمن کرکٹ شیڈول میں بڑی تبدیلی پاکستان فٹبال ٹیم کی تاریخی فتح پر وزیراعظم اور محسن نقوی کی مبارکباد کترینہ کیف کی شوبز میںواپسی کی خبروں کی حقیقت سامنے آگئی جینیفر ونگٹ کی دوسری شادی کی تیاریاں شروع؟ سمیع ثانی نے اداکاری سے دوری کی اصل وجہ بتا دی تامل سنیما کا عہد ساز فلم ساز دنیا سے رخصت
بلوچستان خبر

2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا کام نہ ہو سکا

2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا کام نہ ہو سکا

مقامی ذرائع کے مطابق، سنہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس شاہراہ کو شدید نقصان پہنچایا تھا، تاہم چار سال گزرنے کے باوجود حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کی مکمل بحالی کے لیے کوئی مؤثر یا خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ سڑک جگہ جگہ سے دھنس چکی ہے، کازویز ٹوٹ چکے ہیں اور گہرے گڑھے کسی بڑے حادثے کو دعوت دے رہے ہیں۔

ڈیڑھ گھنٹے کا سفر چار گھنٹوں میں تبدیل

پہاڑی اور پیچیدہ راستہ ہونے کی وجہ سے یہ سڑک پہلے ہی دشوار گزار تھی، لیکن موجودہ ٹوٹ پھوٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

وقت کا ضیاع: ماضی میں ڈھاڈر سے شوران کا جو سفر محض ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا تھا، اب وہ بڑھ کر 3 سے 4 گھنٹے لے رہا ہے۔

محدود حدِ نگاہ (Visibility): سڑک کے دونوں اطراف جنگلی جھاڑیوں کی بھرمار اور ختم ہوتے ہوئے شولڈرز کی وجہ سے حادثات کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

طبی ہنگامی صورتحال: سڑک کی ابتر حالت کے باعث کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو وقت پر ڈھاڈر یا کوئٹہ منتقل کرنا ناممکن ہو چکا ہے، جس سے قیمتی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔

تجارتی نقصانات: سڑک کی بدحالی نے مقامی تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ مال بردار گاڑیوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کو روزانہ بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 حکومتِ بلوچستان سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ عوام نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ محکموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈھاڈر تا شوران لنک روڈ کی تعمیرِ نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ مقامی بحران کا خاتمہ ہو سکے