تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر حکومتیں تو قائم کی جا سکتی ہیں مگر قوموں کے دل فتح نہیں کیے جا سکتے لاٹھی گولی جبر ستم اور خوف وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن یہ پائیدار امن استحکام اور عوامی اعتماد کی ضمانت نہیں بن سکتے افسوس کہ ہمارے ملک کے حکمران بارہا اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرتے آئے ہیں مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں مسائل مزید پیچیدہ گمبھیر اور خطرناک صورت اختیار کر لیتے ہیں اگر ظلم و جبر سے حکومتیں ہمیشہ قائم رہتیں تو آج دنیا میں فرعون نمرود شداد چنگیز خان ابوجہل اور یزید کے پیروکاروں کی اکثریت ہوتی اگر لاٹھی گولی اور تلوار ہی کامیابی کا معیار ہوتیں تو تاریخ کے صفحات پر ظالموں کے نام سنہری حروف میں درج ہوتے مگر تاریخ کا فیصلہ کچھ اور ہے
آج حضرت ابراہیمؑ علیہ سلام حضرت موسیٰؑ علیہ سلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت امام حسینؑ علیہ سلام جیسے عظیم کرداروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے دنیا بھر میں اربوں انسان ان کے پیروکار ہیں کیونکہ انہوں نے حق انصاف سچائی برداشت اور انسانیت کے لیے جدوجہد کی تاریخ نے طاقت کے نشے میں مست حکمرانوں کو نہیں بلکہ اصولوں پر ثابت قدم رہنے والوں کو امر کیا ہے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھی ایسے رہنما گزرے ہیں جنہوں نے عوامی حقوق جمہوری اقدار اور قومی وقار کے لیے جدوجہد کی ذوالفقار علی بھٹو بے نظیر بھٹو باچا خان ولی خان نواب خیر بخش مری نواب اکبر خان بگٹی میر غوث بخش بزنجو سردار عطا اللہ مینگل اور خان عبدالصمد خان جیسے رہنما آج اس دنیا میں موجود نہیں مگر ان کے نام آج بھی سیاسی مباحث اور عوامی یادداشت کا حصہ ہیں وہ آج بھی اپنے پیروکاروں کے دلوں میں زندہ ہیں وجہ یہ نہیں کہ وہ اقتدار میں تھے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی عوامی مسائل قومی حقوق اور اپنے نظریات کے لیے وقف کر دی تھی آج کے حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ عوام کے دلوں میں جگہ کیوں نہیں بنا پا رہے آخر کیوں بار بار اقتدار حاصل کرنے والے سیاسی رہنما عوامی اعتماد اور احترام کے اس مقام تک نہیں پہنچ سکے جہاں تاریخ انہیں عزت کے ساتھ یاد رکھے اس سوال کا جواب شاید اس تلخ حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اقتدار کے ایوانوں نے قومی ترقی تعلیم صحت روزگار اور انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے سیاسی مفادات کرپشن اقربا پروری اور شاہانہ طرزِ حکمرانی کو ترجیح دی آج سزا و جزا کے بیشتر ادارے زوال پذیری کا شکار ہیں کرپشن کو بعض لوگ اپنا حق سمجھنے لگے ہیں جبکہ عوامی مسائل اور قومی ترقی کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے ملک کا قرض مسلسل بڑھ رہا ہے مہنگائی عام آدمی کی زندگی کو نگل رہی ہے
بے روزگاری نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کر رہی ہے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے ایک سفید پوش خاندان کی زندگی روز بروز مشکل تر ہوتی جا رہی ہے اضافی ٹیکسوں کی بھرمار نے بجلی گیس پٹرول اشیائے خورد نوش اور روزمرہ ضروریاتِ زندگی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے لاکھوں کاروباری افراد اور سرمایہ کار حالات سے تنگ آ کر ملک چھوڑ چکے ہیں یا چھوڑنے کی تیاری میں ہیں مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو شاید اس اجتماعی نقصان کا احساس نہیں دوسری جانب ملک کے مختلف خطوں کی صورتحال تشویشناک ہے بلوچستان گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام اپنے اپنے مسائل محرومیوں اور شکایات کا اظہار کر رہے ہیں سندھ اور پنجاب کے غریب عوام بھی مہنگائی بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں کئی علاقوں میں لوگوں کو تحفظ روزگار تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے 6 بجے کے بعد بلوچستانی عوام سفر سے محروم ہے اگر عوام خود کو غیر محفوظ محروم اور نظرانداز شدہ محسوس کریں تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے جناب صدر وزیرِ اعظم و وفاقی کابینہ اور تمام سیاسی قیادت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا ان کی طرزِ حکمرانی واقعی ملک کو درست سمت میں لے جا رہی ہے کیا عوام کے مسائل حل ہو رہے ہیں یا ان میں اضافہ ہو رہا ہے کیا حکمران عوام کے دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں یا صرف اقتدار کو برقرار رکھنے کی فکر میں مبتلا ہیں
ہمارے ملک کے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے مگر تاریخ کا فیصلہ دائمی ہوتا ہے عوام کے دلوں پر حکمرانی خدمت انصاف دیانت داری برد باری اور قربانی سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ لاٹھی گولی گرفتاریوں اور خوف کی سیاست سے جو حکمران اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں وہ قوموں کے محسن بن جاتے ہیں اور جو اسے نظرانداز کرتے ہیں وہ اقتدار کے باوجود تاریخ کی خاموشیوں میں گم ہو جاتے ہیں آج بھی وقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے انصاف برداشت اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کرے کیونکہ قومیں بندوق کی نال سے نہیں بلکہ اعتماد انصاف قانون کی بالادستی اور عوامی رضامندی سے چلتی ہیں حکمرانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں کس صف میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں یا ان لوگوں کی صف میں جنہوں نے خوف کے ذریعے حکومت کی یا ان عظیم رہنماؤں کی صف میں جنہوں نے لوگوں کے دلوں میں گھر بنایا کیونکہ تخت و تاج ہمیشہ نہیں رہتے مگر عوام کے دلوں میں بنائی گئی جگہ صدیوں تک قائم رہتی ہے