تازہ ترین
کوئٹہ: تیزاب گردی کے واقعے پر خواتین ڈاکٹرز کا ہنگامی احتجاج، سول ہسپتال کی سکیورٹی پر سنگین سوالات 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا کام نہ ہو سکا اوچ پاور پلانٹ مرکزی ٹاور دھماکے سے تباہ، بجلی منقطع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں ’شندور پولو فیسٹیول 2026‘ کا رنگا رنگ آغاز، گورنر کے پی کے نے افتتاح کر دیا چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان وفاقی بجٹ 2026-27: حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد رکھنے کی تجویز؛ تنخواہ دار طبقے کیلئے 50 ارب کا ٹیکس ریلیف متوقع طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی شرکت وزیر اعظم شہباز شریف سے ارکانِ قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر مشاورت بین اسٹوکس کی ڈسپلن خلاف ورزی پر ڈراپ، سابق کپتانوں کا ملا جلا ردعمل صومالیہ کے ریفری عمر عبدالقادر ارتان کی وطن واپسی پر شاندار استقبال آئی سی سی فیصلے کے بعد آسٹریلوی ویمن کرکٹ شیڈول میں بڑی تبدیلی پاکستان فٹبال ٹیم کی تاریخی فتح پر وزیراعظم اور محسن نقوی کی مبارکباد کترینہ کیف کی شوبز میںواپسی کی خبروں کی حقیقت سامنے آگئی جینیفر ونگٹ کی دوسری شادی کی تیاریاں شروع؟ سمیع ثانی نے اداکاری سے دوری کی اصل وجہ بتا دی
بلوچستان خبر

کوئٹہ: تیزاب گردی کے واقعے پر خواتین ڈاکٹرز کا ہنگامی احتجاج، سول ہسپتال کی سکیورٹی پر سنگین سوالات

کوئٹہ: تیزاب گردی کے واقعے پر خواتین ڈاکٹرز کا ہنگامی احتجاج، سول ہسپتال کی سکیورٹی پر سنگین سوالات

کوئٹہ – ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) خواتین ونگ نے صوبائی دارالحکومت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے، جس میں ہسپتالوں میں ناقص سکیورٹی انتظامات، پیشہ ورانہ مسائل اور حالیہ پرتشدد واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

### تیزاب گردی کا واقعہ اور ڈاکٹرز میں پھیلا ہوا خوف

پریس کانفرنس کے دوران خواتین ڈاکٹرز نے حالیہ تیزاب گردی کے لرزہ خیز واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے سول ہسپتال کوئٹہ کی سکیورٹی اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خواتین طبی عملے کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر محفوظ حالات میں فرائض کی انجام دہی اب ناممکن ہو چکی ہے۔

"طبی عملے کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب تک ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، خوف کا یہ ماحول ختم نہیں ہو سکتا۔"

### آواز اٹھانے پر برطرفیاں اور مفت طبی خدمات کا اعلان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی رہنماؤں نے صوبائی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکشاف کیا کہ اپنے جائز حقوق اور تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے پر خواتین ڈاکٹرز کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے۔

تاہم، انتظامیہ کے اس سخت رویے کے باوجود، خواتین ڈاکٹرز نے مریضوں کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کے باوجود غریب اور مستحق مریضوں کی خاطر مفت طبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم نہ ہونا پڑے