تازہ ترین
وفاقی بجٹ 2026-27: حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد رکھنے کی تجویز؛ تنخواہ دار طبقے کیلئے 50 ارب کا ٹیکس ریلیف متوقع طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی شرکت وزیر اعظم شہباز شریف سے ارکانِ قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر مشاورت بین اسٹوکس کی ڈسپلن خلاف ورزی پر ڈراپ، سابق کپتانوں کا ملا جلا ردعمل صومالیہ کے ریفری عمر عبدالقادر ارتان کی وطن واپسی پر شاندار استقبال آئی سی سی فیصلے کے بعد آسٹریلوی ویمن کرکٹ شیڈول میں بڑی تبدیلی پاکستان فٹبال ٹیم کی تاریخی فتح پر وزیراعظم اور محسن نقوی کی مبارکباد کترینہ کیف کی شوبز میںواپسی کی خبروں کی حقیقت سامنے آگئی جینیفر ونگٹ کی دوسری شادی کی تیاریاں شروع؟ سمیع ثانی نے اداکاری سے دوری کی اصل وجہ بتا دی تامل سنیما کا عہد ساز فلم ساز دنیا سے رخصت ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ سہولت کاری: پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر خطے کا ابھرتا ہوا ٹیک ہب بن گیا، اسٹارٹ اپ ویلیو 4 ارب ڈالر سے تجاوز بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان
بلوچستان خبر

وفاقی بجٹ 2026-27: حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد رکھنے کی تجویز؛ تنخواہ دار طبقے کیلئے 50 ارب کا ٹیکس ریلیف متوقع

وفاقی بجٹ 2026-27: حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد رکھنے کی تجویز؛ تنخواہ دار طبقے کیلئے 50 ارب کا ٹیکس ریلیف متوقع

اسلام آباد – وفاقی حکومت نے مالیاتی سال 2026-27 کے لیے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کے بجٹ کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ نئے بجٹ میں جہاں ایف بی آر کے لیے تاریخی اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں، وہاں تنخواہ دار طبقے، سولر انڈسٹری اور تعلیم کے شعبے کو ریلیف دینے کی بھی تجویز ہے۔

ریونیو اہداف اور معاشی اعشاریے

نئے مالیاتی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا ٹیکس ہدف 15,267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جس سے مجموعی طور پر 1,000 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کیا جائے گا۔

بجٹ میں ملکی برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا ہدف بھی شامل ہے۔

عوامی ریلیف: سولر پینل، اسٹیشنری اور تنخواہیں

عوام اور تاجر برادری کے شدید تحفظات کے بعد حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اسٹیشنری اشیا پر بھی سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ختم کر دی گئی ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ، ملک کے تنخواہ دار طبقے کو 50 ارب روپے تک کا ٹیکس ریلیف دینے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

آٹو سیکٹر: مقامی الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ، امپورٹڈ پر بھاری ٹیکس

گرین انرجی اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے آٹو پالیسی میں درج ذیل تبدیلیاں کی جا رہی ہیں:

درآمدی الیکٹرک گاڑیاں: باہر سے منگوائی جانے والی ای وی (EV) گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

مقامی الیکٹرک گاڑیاں: پاکستان میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کو کم کر کے صرف 1 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

روایتی گاڑیاں: پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1,727 ارب روپے کی وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 ترقیاتی فنڈز، دفاع اور قرضوں کی ادائیگی

نئے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 1,000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے دفاع اور داخلہ کے علاوہ کسی بھی وزارت کا نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈز میں کمی بھی تجویز کی گئی ہے۔

بجٹ کے دو بڑے اخراجات درج ذیل ہیں:

قرضوں پر سود کی ادائیگی: 7,824 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز۔

دفاعی بجٹ: تقریباً 3,000 ارب روپے رکھنے کی تجویز۔

 انکم ٹیکس، کرپٹو کرنسی اور ریٹیل سیکٹر کے لیے نئے قوانین

ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد آمدن والوں پر عائد سرچارج ختم ہونے کا امکان ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کو سہولت دینے کے لیے سپر ٹیکس میں 1 سے 2 فیصد کمی کی تجویز ہے۔

کرپٹو اور مارکیٹ ریگولیشنز

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کرپٹو ٹریڈنگ کے منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس (CGT) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، سابق قبائلی اضلاع (فاٹا/پاٹا) کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ عوامی سطح پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل، چینی اور چائے سمیت متعدد اشیا کو سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ان اشیائے خورونوش پر پرچون قیمت (Retail Price) کی پرنٹنگ لازمی ہوگی۔ ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے دکانداروں کے خلاف سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں گی۔