اسلام آباد – وفاقی حکومت نے مالیاتی سال 2026-27 کے لیے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کے بجٹ کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ نئے بجٹ میں جہاں ایف بی آر کے لیے تاریخی اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں، وہاں تنخواہ دار طبقے، سولر انڈسٹری اور تعلیم کے شعبے کو ریلیف دینے کی بھی تجویز ہے۔
ریونیو اہداف اور معاشی اعشاریے
نئے مالیاتی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا ٹیکس ہدف 15,267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جس سے مجموعی طور پر 1,000 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کیا جائے گا۔
بجٹ میں ملکی برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا ہدف بھی شامل ہے۔
عوامی ریلیف: سولر پینل، اسٹیشنری اور تنخواہیں
عوام اور تاجر برادری کے شدید تحفظات کے بعد حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اسٹیشنری اشیا پر بھی سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ختم کر دی گئی ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ، ملک کے تنخواہ دار طبقے کو 50 ارب روپے تک کا ٹیکس ریلیف دینے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
آٹو سیکٹر: مقامی الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ، امپورٹڈ پر بھاری ٹیکس
گرین انرجی اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے آٹو پالیسی میں درج ذیل تبدیلیاں کی جا رہی ہیں:
درآمدی الیکٹرک گاڑیاں: باہر سے منگوائی جانے والی ای وی (EV) گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔
مقامی الیکٹرک گاڑیاں: پاکستان میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کو کم کر کے صرف 1 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
روایتی گاڑیاں: پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1,727 ارب روپے کی وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ترقیاتی فنڈز، دفاع اور قرضوں کی ادائیگی
نئے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 1,000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے دفاع اور داخلہ کے علاوہ کسی بھی وزارت کا نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈز میں کمی بھی تجویز کی گئی ہے۔
بجٹ کے دو بڑے اخراجات درج ذیل ہیں:
قرضوں پر سود کی ادائیگی: 7,824 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز۔
دفاعی بجٹ: تقریباً 3,000 ارب روپے رکھنے کی تجویز۔
انکم ٹیکس، کرپٹو کرنسی اور ریٹیل سیکٹر کے لیے نئے قوانین
ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد آمدن والوں پر عائد سرچارج ختم ہونے کا امکان ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کو سہولت دینے کے لیے سپر ٹیکس میں 1 سے 2 فیصد کمی کی تجویز ہے۔
کرپٹو اور مارکیٹ ریگولیشنز
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کرپٹو ٹریڈنگ کے منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس (CGT) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، سابق قبائلی اضلاع (فاٹا/پاٹا) کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ عوامی سطح پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل، چینی اور چائے سمیت متعدد اشیا کو سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ان اشیائے خورونوش پر پرچون قیمت (Retail Price) کی پرنٹنگ لازمی ہوگی۔ ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے دکانداروں کے خلاف سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں گی۔