تازہ ترین
وزیر اعظم شہباز شریف سے ارکانِ قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر مشاورت بین اسٹوکس کی ڈسپلن خلاف ورزی پر ڈراپ، سابق کپتانوں کا ملا جلا ردعمل صومالیہ کے ریفری عمر عبدالقادر ارتان کی وطن واپسی پر شاندار استقبال آئی سی سی فیصلے کے بعد آسٹریلوی ویمن کرکٹ شیڈول میں بڑی تبدیلی پاکستان فٹبال ٹیم کی تاریخی فتح پر وزیراعظم اور محسن نقوی کی مبارکباد کترینہ کیف کی شوبز میںواپسی کی خبروں کی حقیقت سامنے آگئی جینیفر ونگٹ کی دوسری شادی کی تیاریاں شروع؟ سمیع ثانی نے اداکاری سے دوری کی اصل وجہ بتا دی تامل سنیما کا عہد ساز فلم ساز دنیا سے رخصت ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ سہولت کاری: پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر خطے کا ابھرتا ہوا ٹیک ہب بن گیا، اسٹارٹ اپ ویلیو 4 ارب ڈالر سے تجاوز بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
بلوچستان خبر

بین اسٹوکس کی ڈسپلن خلاف ورزی پر ڈراپ، سابق کپتانوں کا ملا جلا ردعمل

بین اسٹوکس کی ڈسپلن خلاف ورزی پر ڈراپ، سابق کپتانوں کا ملا جلا ردعمل

انگلینڈ( شو بز ڈیسک)انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزام کے بعد ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے معاملے پر سابق کپتانوں ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔دونوں سابق کپتانوں نے نائٹ کلب واقعے کو سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ معاملہ اتنا بڑا نہیں کہ کپتانی سے ہٹانے کی نوبت آئے۔ناصر حسین نے کہا کہ بین اسٹوکس نے انگلینڈ کرکٹ کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں اور وہ ٹیم کی بڑی فتوحات، بشمول ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اسٹوکس ایک جنگجو کھلاڑی ہیں، تاہم اس بار ان سے غلطی ضرور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا جرم نہیں جس پر انہیں ٹیم سے مکمل طور پر الگ کر دیا جائے، اور امید ظاہر کی کہ جذبات میں آ کر وہ ریٹائرمنٹ جیسے فیصلے نہ کریں۔دوسری جانب مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ یہ معاملہ زیادہ اس لیے بڑا بنا کیونکہ ایشیز کے بعد ٹیم کے گرد ایک خاص تاثر بن چکا ہے۔ ان کے مطابق فتح کے بعد رات گئے تک باہر رہنا ایسا جرم نہیں جس کی بنیاد پر استعفیٰ یا برطرفی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹوکس گزشتہ چار سال سے ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ایتھرٹن نے مزید کہا کہ مستقبل میں جب لوگ اس واقعے کو یاد کریں گے تو سوال یہ ہوگا کہ ایک کھلاڑی کرفیو کی خلاف ورزی کی وجہ سے ریٹائر کیوں ہوا۔واضح رہے کہ بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔