کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن (World Day Against Child Labour) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ حکومت بلوچستان معصوم بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے روشن مستقبل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور حکومتی اقدامات
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بچوں سے مزدوری لینا ان کی تعلیم، صحت اور ایک بہتر مستقبل کے مواقع کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ بلوچستان حکومت اس ناسور کے خاتمے کے لیے نہ صرف قانون سازی بلکہ عملی اور مؤثر اقدامات کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔
"بچوں کو مزدوری کے دلدل سے نکال کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہی ایک خوشحال اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔" — میر سرفراز بگٹی
مزدور بچوں کے لیے 400 سے زائد اسکالرشپس کا اعلان
حکومت بلوچستان کے ایک بڑے انقلابی اقدام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے سے 400 سے زائد ایسے بچوں کو، جو پہلے چائلڈ لیبر کا شکار تھے، معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اسکالرشپ پر ملک کے صفِ اول کے تعلیمی اداروں میں بھیجا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ان بچوں کو قومی دھارے میں لانے اور انہیں ترقی کے یکساں مواقع دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
سماجی اداروں اور والدین کے لیے اہم اپیل
میر سرفراز بگٹی نے زور دیا کہ چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ صرف حکومتی کوششوں سے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی اور سماجی اداروں پر زور دیا کہ وہ بچوں کے استحصال کے خاتمے کے لیے اپنا مشترکہ اور فعال کردار ادا کریں۔ بچوں کا تحفظ اور فلاح و بہبود ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور ہمیں ہر بچے کو اس کے خواب پورے کرنے کے لیے ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا