راولپنڈی — خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی میں چلنے والے گروہ 'فتنہ الخوارج' کے مزید 21 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ اور اس کے گردونواح میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ٹارگٹڈ آپریشنز کے تسلسل میں کی گئیں۔ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ہونے والے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ان انتہائی ہنر مندانہ آپریشنز میں ہلاک ہونے والے خارجیوں کی مجموعی تعداد اب 48 ہو چکی ہے۔
فتنہ الخوارج کے 4 انتہائی مطلوب رنگ لیڈر انجام کو پہنچ گئے
آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کے چار اہم اور انتہائی مطلوب رنگ لیڈر (کمانڈرز) بھی شامل ہیں جو سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔ ہلاک کمانڈروں کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی ہے:
خارجی خالد رضا عرف سالار
خارجی مفتون
خارجی موسیٰ
خارجی عمران عرف ایان
آپریشن کے دوران ہلاک شدگان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان اہم کمانڈروں کی ہلاکت سے علاقے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
'عزمِ استحکام' کے تحت کلین اپ آپریشن جاری رہے گا
ترجمان پاک فوج کے مطابق میران شاہ اور ارد گرد کے علاقوں میں چھپے دیگر ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا سینیٹائزیشن (پاک سازی) آپریشن تاحال جاری ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے مطابق، ویژن "عزمِ استحکام" کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی یہ بلاامتیاز مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کی لعنت کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے