کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں عوامی مفاد، گڈ گورننس، اور معاشی ترقی سے متعلق متعدد دوررس فیصلوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے معاون وزیراعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے صوبے میں شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور شہری شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔
بلدیاتی نظام کا استحکام اور انتخابی روڈ میپ
کابینہ نے بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت مکمل ہونے پر 8 فروری 2027 کو ان کی تحلیل کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
"بلدیاتی انتخابات سے قبل نئے اضلاع کی تشکیل، حلقہ بندیوں اور عدالتی فیصلوں سے متعلق تمام تر امور کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے سامنے پیش کیا جائے گا،" شاہد رند نے وضاحت کی۔
عوامی سہولت اور انتظامی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے کوئٹہ میں بھی بلدیاتی انتخابات صوبے کے دیگر اضلاع کے ساتھ ایک ہی مرحلے میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بلدیاتی اداروں کے درجوں میں تبدیلی
ضلع بارکھان میں نئی میونسپل کمیٹی ڈیرہ کھیتران اور برشور میں نئی میونسپل کمیٹی کے قیام کی منظوری۔
میونسپل کمیٹی خاران کو ترقی دے کر میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے کی منظوری۔
شفافیت، آئینی ترامیم اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ
کابینہ نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کمیشن ایکٹ 2021 میں ترامیم کی منظوری دی ہے، جس سے صوبے میں معلومات تک رسائی کا نظام مزید مؤثر اور شفاف بنے گا۔ انسدادِ منشیات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام سیشن ججز، ایڈیشنل سیشن ججز اور فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹس کو سی این ایس (CNS) مقدمات کے ٹرائل کے اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔
معاشی ترقی کے لیے نئے قوانین
صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز 2026 کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام سے پبلک سیکٹر کے منصوبوں میں نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ ملے گا۔
ملازمین کی فلاح و بہبود، صحت اور سیکیورٹی کے شعبے میں اقدامات
صوبائی کابینہ نے ملازمین، نرسنگ عملے اور سیکیورٹی ڈھانچے کے لیے درج ذیل اہم فیصلے کیے:
ملازمین کے لیے بلا سود قرضے: بلوچستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت ملازمین کو گھروں کی تعمیر کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
محکموں کے ناموں اور پالیسی میں تبدیلی: محکمہ اقلیتی امور کا نام تبدیل کرکے انٹر فیتھ ہارمونی ڈیپارٹمنٹ (Interfaith Harmony Department) رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔ مزید برآں، محکمہ ثقافت کے منسلک ونگز میں گریڈ 1 تا 15 کے ملازمین کے لیے کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ پالیسی کی توثیق کی گئی ہے۔
واش پالیسی اور ٹیکس استثنیٰ: محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی پیش کردہ واش (WASH) پالیسی دستاویزات منظور کر لی گئی ہیں۔ صحت کے شعبے میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کو صوبائی ٹیکسوں سے مکمل مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
نرسنگ ٹرینیز کا وظیفہ: نرسنگ گریجویٹ ٹرینیز کے لیے 28 ہزار 70 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
نئے پولیس اسٹیشنز کا قیام: امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حب اور ڈام میں نئے پولیس اسٹیشنز جبکہ دالبندین میں ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام کی منظوری دی گئی۔
معاون وزیراعلیٰ شاہد رند نے اعادہ کیا کہ یہ تمام فیصلے صوبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور نچلی سطح تک عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے