اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بحث کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومتی معاشی پالیسیوں، ماضی کی سیاسی غلطیوں، اور صوبائی خودمختاری کی پامالی پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرے۔
شمالی و مغربی سرحدی صورتحال، مہنگائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایوان کو خبردار کیا کہ حکمرانوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے وفاقی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں کم از کم آمدن کے تذکرے پر شدید دکھ کا اظہار کیا۔
7 کروڑ غریب پاکستانی: "بجٹ میں جس آمدن کا ذکر کیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ آج 7 کروڑ پاکستانی ماہانہ 8500 روپے سے بھی کم کما رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض لوگ ایک وقت کے کھانے پر ہوٹل میں 30، 30 ہزار روپے اڑا دیتے ہیں،" انہوں نے کہا۔
ذاتی مثال: انہوں نے ایوان کو بتایا، "میری اپنی گاڑی کا فیول ٹینک 25 ہزار روپے میں بھرتا ہے، میری سمجھ سے باہر ہے کہ عام لوگ 8500 روپے میں مہینے کا گزارہ کیسے کرتے ہوں گے؟"
صوبوں کا معاشی استحصال: انہوں نے وفاق کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن میں صوبوں کو پیسہ دیا جاتا ہے، لیا نہیں جاتا۔ اگر بلوچستان وفاق کو 1600 ارب روپے دے گا تو اپنے عوام پر کیا خاک خرچ کرے گا؟
سندھ اور بلوچستان کو کالونی سمجھنے کا رویہ اور تاریخی غلطیاں
اپوزیشن لیڈر نے صوبائی حقوق پر بات کرتے ہوئے مقتدر حلقوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔
"آپ سندھ اور بلوچستان کو ایک کالونی کی طرح ٹریٹ کر رہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ آپ سے اچھا انگریز تھا،" محمود خان اچکزئی نے جذباتی انداز میں کہا۔
انہوں نے ماضی کے زخموں کو دہراتے ہوئے کہا:
نواب نوروز خان کا سانحہ: ایوب خان کے دور میں نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو قرآن پاک کے حلف پر پہاڑوں سے اتارا گیا اور بعد میں ان کے بچوں سمیت انہیں پھانسی دے دی گئی۔
نواب اکبر بگٹی کا قتل: پرویز مشرف کے دور میں 80 سالہ بوڑھے نواب اکبر بگٹی کو بے رحمی سے مارا گیا اور حد تو یہ ہے کہ عوام کو ان کا جنازہ تک پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
عطاء اللہ مینگل کے خاندان پر ظلم: عطا اللہ مینگل کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے بیٹے کو اٹھایا گیا، جس کا آج تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔
فاٹا انضمام پر سنگین سوالات اور پشتونوں کا دفاع
محمود خان اچکزئی نے وفاقِ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو ایک بڑا انتظامی بلنڈر قرار دیا۔
’انضمام ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا‘
انہوں نے انکشاف کیا کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کا فیصلہ اچانک کیا گیا اور یہ معاملہ اسمبلی کے ایجنڈے پر ہی نہیں تھا۔ "فاٹا پر صرف تین آئینی آرٹیکل لاگو ہوتے تھے، ہم نے زبردستی 200 آرٹیکلز ان کے گلے میں ڈال دیے۔ اب جو کچھ وہاں ہو رہا ہے، وہ نہ آپ سے سنبھل رہا ہے اور نہ ہم سے،" انہوں نے واضح کیا۔
پشتونوں کو دہشت گرد کہنے کی مذمت
انہوں نے بحیثیت قوم پشتونوں کے خلاف بنائے گئے منفی تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں سمیت تمام بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت ترک اور پشتونوں نے کی تھی۔ پشتونوں نے کبھی کسی غیر ملکی طاقت کی ایجنٹی نہیں کی اور انہیں دہشت گرد کہنا سراسر ناانصافی ہے۔
آئینی ترامیم، 9 مئی اور احتجاجی نوجوانوں پر فائرنگ
آئین اور قانون کی بالادستی پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے حکومت کے حالیہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
آئینی ترامیم پر تنقید: انہوں نے 26 ویں آئینی ترمیم سمیت دیگر حالیہ ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ان ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، انہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ ہماری تائید کے بغیر یہ آئینی ترامیم نہیں ہونی چاہیے تھیں۔
9 مئی کے بعد کے حالات: انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد ہماری معزز خواتین اور بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ آج بھی ملک کی جیلیں چھوٹے بچوں سے بھری پڑی ہیں۔
ڈی چوک احتجاج کا تذکرہ: "دنیا بھر میں بچوں میں جذبہ حریت ابھارا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ڈی چوک پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے سروں میں گولیاں ماری گئیں۔ آئین ہر پاکستانی کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے،" انہوں نے یاد دلایا۔
حل کی تجویز: اسٹیبلشمنٹ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور مذاکرات
محمود خان اچکزئی نے جہاں مقتدر حلقوں کو آڑے ہاتھوں لیا، وہاں مسائل کے حل کے لیے ایک مفاہمت کا راستہ بھی تجویز کیا۔
اسٹیبلشمنٹ اور آئینی حدود: انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کے لیے صرف اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے، اصل حل یہ ہے کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ ہی ملک کی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔
سیاسی مصالحت کی تاریخ: انہوں نے اپنی سیاسی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انہوں نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو ایک ساتھ بٹھانے میں کردار ادا کیا تھا اور پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ کو بچانے کے لیے تین بار خورشید شاہ کی وزیراعظم سے ملاقات کرائی تھی۔
مذاکرات ہی واحد راستہ: انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، ریاست طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ چنے۔ بھارت کے خلاف جنگوں میں اتنے فوجی شہید نہیں ہوئے جتنے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربان ہوئے۔
نوجوانوں کو روزگار اور سیاحت کا فروغ: انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے 'دانش اسکولز' کے منصوبے کی تعریف کی، تاہم سرحدی اضلاع میں بڑھتی ہوئی افیون کی کاشت اور منشیات کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت امن قائم کرے اور نوجوانوں کو روزگار دے تو مذہبی سیاحت کے ذریعے ہی ملک اربوں ڈالر کما سکتا ہے اور نوجوان راہِ راست پر آ سکتے ہیں۔