اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات اور میثاقِ جمہوریت کی دعوت دے دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملک کی بقا سب سے مقدم ہے۔
صوبائی وسائل پر پہلا حق صوبوں کا ہے، رکوڈیک بلوچستان کی مشاورت سے ہوا
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی گفتگو کو انتہائی غور سے سنا ہے۔ صوبوں کے وسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"صوبوں کے وسائل پر خود ان کا حق ہے، اس پر کوئی دو رائے یا اختلاف نہیں ہے۔ رکوڈیک کا معاہدہ اٹھا کر دیکھ لیں، یہ بلوچستان کے زعما کی مکمل مشاورت اور اعتماد کے ساتھ طے پایا تھا۔"
انہوں نے مزید یاد دہانی کروائی کہ 2010 کے این ایف سی (NFC) ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 100 فیصد بڑھایا گیا تھا، جو کہ کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا حق تھا جسے ہم نے تسلیم کیا۔ گوادر سے چمن تک اعلیٰ معیار کی شاہراہوں کی تعمیر محمود خان اچکزئی کا مطالبہ نہیں بلکہ حکومت کا فرض تھا جسے پورا کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ڈیورنڈ لائن پر سیکیورٹی
قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تین دن قبل شہید ہونے والے 22 فوجی جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں 'خارجی ہاتھ' ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔
خیبر پختونخوا میں افواجِ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن پر سیکیورٹی کے پیشِ نظر باڑ لگانا بالکل مناسب اور وقت کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے شہداء کی عزت و تکریم کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کو میثاقِ جمہوریت کی پیشکش اور ثناء اللہ مستی خیل کو پیغام
سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی قیادت کو مخاطب کیا اور کہا:
"پی ٹی آئی کے ساتھ ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے، وہ سب ہمارے بھائی ہیں۔ میں کئی بار کہہ چکا ہوں اور آج بھی دیر نہیں ہوئی، آئیں اور ملک کی خاطر 'میثاقِ جمہوریت' کی طرف بڑھیں۔ میں آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔"
خطاب کے دوران انہوں نے ثناء اللہ مستی خیل کو بھی پیار بھرے انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "اب آپ واپس اپنے گھر (پارلیمنٹ) آجائیں