معاشی و سیاسی استحکام سے ہی دفاعی استحکام آئے گا، اکتوبر کے بعد سے سیاسی عدم استحکام بڑھایا گیا، دیوار سے لگا کر میثاقِ جمہوریت کی باتیں نہیں ہو سکتیں: بیرسٹر گوہر خان
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی ملکی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم پارٹی کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد حالیہ پابندیوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے پارلیمانی بائیکاٹ کا انتباہ بھی جاری کر دیا۔
’ملک اور فوج ہماری ہے، ہم پر انگلی نہ اٹھائی جائے‘
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے پارٹی کا اصولی موقف سامنے رکھا۔ انہوں نے فوج مخالف بیانیے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا:
"یہ ملک بھی ہمارا ہے اور فوج بھی ہماری ہے۔ ہماری طرف کوئی انگلی نہ اٹھائے کہ ہم فوج کے مخالف ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، اس لیے فوج کے سر پر کوئی سیاست نہ کرے۔ لیکن اگر ہمیں کوئی تکلیف پہنچے گی، تو ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہم اپنے شکوے کس کے سامنے لے کر جائیں؟"
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کا گہرا تعلق معیشت اور سیاست سے ہے۔ جب تک ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام نہیں آئے گا، تب تک دفاعی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے گلہ کیا کہ اکتوبر کے بعد سے ملک میں سیاسی عدم استحکام جان بوجھ کر بڑھایا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی: وزیراعظم سے جواب کا مطالبہ
بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حالتِ زار اور ان سے ملاقاتوں پر لگی حالیہ پابندیوں کا معاملہ شدومد سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا:
"عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔ نہ ان کے ڈاکٹرز کو رسائی ہے اور نہ ہی فیملی کو ملنے کی اجازت ہے۔ وزیراعظم صاحب جواب دیں کہ یہ سب کس کے اشارے پر ہو رہا ہے اور ملاقاتوں کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟"
انہوں نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے اور آج ہی بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے۔ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملتی تو اپوزیشن کو اس ایوان میں بیٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
میثاقِ جمہوریت اور پارلیمانی بائیکاٹ کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 'میثاقِ جمہوریت' کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم اصولی طور پر میثاقِ جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن ایک طرف مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف ہمیں دیوار میں چنا جا رہا ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ:
حکومت کی طرف سے تاحال کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا، جس کی وجہ سے ہم نے اسمبلی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
ہمیں واضح طور پر بتایا جائے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے گی یا نہیں۔
اگر ہماری سیاسی پہچان اور حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تو اس ایوان کا حصہ بنے رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا