افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام انتہاپسندی کی نذر، خطرناک منصوبے کے انکشافات

افغانستان میں طالبان کا تعلیمی نظام انتہاپسندی کی نذر، خطرناک منصوبے کے انکشافات

Aug 15, 2026|ویب ڈیسک

لووی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ: 36 لاکھ افغان بچوں کے نصاب میں عسکری سوچ اور جہادی بیانیے کی شمولیت

​کابل / سڈنی (ویب ڈیسک): افغانستان میں طالبان رجیم نے لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے کے بعد اب ملک کے مجموعی تعلیمی ڈھانچے کو اپنی مخصوص عسکری اور نظریاتی سوچ کے تابع کر دیا ہے۔ آسٹریلوی تھنک ٹینک لووی انسٹی ٹیوٹ اور ہمراہ نیٹ ورک کی تازہ تحقیقاتی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جدید تعلیم کی جگہ شدت پسندی اور غیر مشروط وفاداری پر مبنی بیانیے کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

​ مدارس کے نیٹ ورک میں بے پناہ اضافہ اور نصابی تبدیلیاں

​ہمراہ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک بھر میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 5 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جہاں اس وقت 36 لاکھ سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں۔

​عسکری بیانیے کا فروغ: لووی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق تعلیمی نصاب میں باقاعدہ عسکری اور جہادی نظریات شامل کر کے کم عمر طلبہ کی فکری سمت تبدیل کی جا رہی ہے۔

​خودکش حملوں کی ترویج: نصاب اور بیانیے میں خودکش حملہ آوروں کی مسلسل تشہیر کے باعث روایتی مذہبی تعلیم اور مسلح عسکریت پسندی کا فرق مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔

​آزادانہ سوچ پر قدغن: نیا تعلیمی نظام بچوں میں فکری تجسس اور سوال اٹھانے کی صلاحیت ختم کر کے حکومتی اطاعت اور فکری یکسانیت پیدا کر رہا ہے۔

علاقائی سلامتی پر اثرات اور عالمی تشویش

​ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں افغان لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت مل بھی جائے، تب بھی طالبان کی جانب سے نصاب میں کی گئی بنیادی تبدیلیاں آنے والی نسلوں کے مستقبل پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کریں گی۔

​اہم نکات (Key Takeaways):

​عسکریت پسندی کی نرسری: افغانستان میں القاعدہ سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور یہ نیا تعلیمی ماڈل علاقائی و عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

​پاکستانی مؤقف کی توثیق: دفاعی ماہرین کے مطابق افغان سرزمین پر جاری یہ فکری و عسکری تربیت افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کے خطرات سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت دیتی ہے۔

​طویل مدتی اثرات: نئی نسل کی یہ یک طرفہ ذہن سازی خطے میں مستقل عدم استحکام اور انتہاپسندی کو ہوا دے گی۔