بھارت: انتخابی نظام پر شکوک، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ

بھارت: انتخابی نظام پر شکوک، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ

Sep 28, 2026|ویب ڈیسک



بھارت میں مودی سرکار کے زیرِ اثر انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اٹھنے والے سوالات کے بعد عوامی و سیاسی سطح پر احتجاج میں شدید اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔


عالمی جریدے *دی اسٹریٹس ٹائمز* کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے کانگریس کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی اور طاقت کا استعمال کیا۔


ادھر ہانگ کانگ کے اخبار *ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ* کے مطابق بھارتی وزیر تعلیم کو عہدے سے ہٹانے والی سیاسی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی ووٹر لسٹوں میں دھاندلی اور خرد برد کے الزامات عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ داغ دیا ہے۔


بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ *دی وائر* کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ووٹر لسٹوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے خلاف آواز اٹھانے والے طلبہ اور عام شہریوں کو پولیس کی جانب سے پہلے ہراساں کیا گیا اور بعد ازاں درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔


داخلی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں پر پیدا ہونے والے اس تنازع نے بھارت کے جمہوری تشخص اور آئندہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔