کے پی شہری مایوس، وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور نظام اصلاحات کا مطالبہ
خیبرپختونخوا کے شہریوں نے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں قیامِ امن اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے محض انتظامی چہرے بدلنا کافی نہیں بلکہ مجموعی پالیسی اور حکومتی نظام میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ صوبے میں عملی نوعیت کا کوئی ترقیاتی کام دکھائی نہیں دے رہا، حکمرانوں کی تمام تر توانائیاں صرف اڈیالہ جیل جانے یا ڈی چوک پر احتجاجی نعرے بازی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
شہریوں نے عدلیہ سے اپیل کی کہ پی ٹی آئی کی سرگرمیوں کا نوٹس لے کر اسے کالعدم قرار دیا جائے اور اس کی قیادت پر سیاست کرنے کی پابندی عائد کی جائے۔
عوام کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو ایسی سنجیدہ اور بااختیار حکومت کی اشد ضرورت ہے جو دہشت گردی کے خلاف جامع اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دے سکے۔ اس مقصد کے لیے پولیس کو مکمل آپریشنل اختیارات دینا اور صوبائی پولیس کے انتظامی ڈھانچے کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک رکھنا ناگزیر ہے۔