طالبان رجیم اور بھارت کا گٹھ جوڑ خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن گیا

طالبان رجیم اور بھارت کا گٹھ جوڑ خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن گیا

Aug 15, 2026|ویب ڈیسک

​ افغان سرزمین پر بھارتی مالی معاونت سے دہشتگرد پراکسیز کی سرپرستی، سابق افغان حکام اور جریدے 'دی ڈپلومیٹ' کے شواہد

​اسلام آباد / کابل (ویب ڈیسک): افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد نئی دہلی اور کابل رجیم کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ بین الاقوامی جریدے "دی ڈپلومیٹ" اور سابق افغان انٹیلی جنس و عسکری حکام کے مطابق بھارت کی مالی معاونت اور افغان سرزمین کی فراہمی کے ذریعے پاکستان مخالف دہشتگرد نیٹ ورکس کو تقویت دی جا رہی ہے۔

سفارتی قربتیں، بیانات اور فنانسنگ کا نیٹ ورک

​جریدے دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی کے دوران بھارت اور طالبان کے سفارتی تعلقات میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔

​مشترکہ بیانیہ: افغان وزیر زراعت مولوی عطاء اللہ عمری نے بھارت کے دورے کے دوران افغان اور بھارتی عوام کے ڈی این اے کو ایک قرار دیا، جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دونوں حکومتوں کا ڈی این اے دراصل دہشتگردی کے فروغ کے ایجنڈے پر ہم آہنگ ہے۔

​ڈرون ٹیکنالوجی اور معاونت: تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق سرحد پار کارروائیوں اور حملوں میں استعمال ہونے والے جدید یو اے ایس (UAS) ڈرونز بھارت کی جانب سے فراہم کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

عسکری قیادت کا دوٹوک مؤقف اور سابق افغان حکام کے انکشافات

​پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کابل رجیم پر واضح کیا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات یا دہشتگرد گروہوں کی سہولت کاری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

​اہم نکات اور کلیدی شواہد (Key Takeaways):

​سابق افغان جنرل سمیع سادات کا بیان: افغان فوج کے سابق جنرل سمیع سادات نے تصدیق کی کہ طالبان رجیم بھارت سے باقاعدہ فنڈنگ حاصل کر کے پاکستان کے خلاف تخریب کار گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

​مسعود اندرابی کا انکشاف: سابق افغان انٹیلی جنس چیف مسعود اندرابی نے بھی کابل انتظامیہ اور بھارتی نیٹ ورکس کے درمیان دہشتگرد پراکسیز کی مالی معاونت کے ٹھوس شواہد کی نشاندہی کی۔

​پراکسی وار کی حکمتِ عملی: دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ نئی دہلی طالبان کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے مغربی بارڈر پر بدامنی پھیلانے کے لیے منظم پراکسیز چلا رہا ہے۔