"سزائے موت اور عدالتی نظام
پاکستان کے تناظر میں شہری حقوق، عدالتی نظام اور سزائے موت: منصفانہ ٹرائل، ریاستی اختیارات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا جائزہ
میرا یہ مضمون پاکستان کے تناظر میں شہری حقوق اور شہریت کے تصور کی روشنی میں عدالتی نظام، منصفانہ ٹرائل، حکومت اور اس کی پابندیوں، سزائے موت اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مرکوز ہے۔
البرٹ کامیو (1913ء تا 1960ء) ایک فرانسیسی نژاد الجزائری مصنف، صحافی اور سیاسی کارکن تھے۔ انہوں نے سزائے موت اور ریاست کی جانب سے کسی انسان کی زندگی ختم کرنے کے اختیار کی مخالفت کی۔ ان کی مشہور تصانیف میں سے ایک کتاب ”ریفلیکشنز آن دی گیلوٹین“ (پھانسی کے تختے پر غور و فکر) کو سزائے موت کے خلاف ایک مؤثر تحریر تصور کیا جاتا ہے۔
کامیو کا مؤقف تھا کہ چونکہ پھانسی ایک ایسا ناقابلِ واپسی عمل ہے جس کے بعد کسی غلطی کی تلافی ممکن نہیں، اس لیے کسی شخص کو سزائے موت دینے سے پہلے ریاست کو انتہائی جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنی چاہییں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت کو کسی شخص کو تختۂ دار پر لٹکانے کا مکمل اختیار حاصل ہے؟ اور اگر کسی پر غیر قانونی یا غیر منصفانہ طریقے سے الزام عائد کیا گیا ہو تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
اسی تناظر میں پاکستان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو خصوصاً ہائی پروفائل مقدمات میں یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ سزا پانے والا شخص بے گناہ بھی ہو سکتا ہے، اور یہی اس معاملے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
جرنل آف لا اینڈ سوشل اسٹڈیز کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں بری ہونے والے 39 فیصد افراد کو بعد ازاں ماتحت عدالتوں کی جانب سے مکمل طور پر بے گناہ قرار دیا گیا۔ مزید برآں، امریکی ادارے ری پرائیو (Reprieve US) کی ایک تحقیق کے مطابق، ٹرائل کورٹس کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے 78 فیصد فیصلوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر محفوظ قرار دیا۔
چنانچہ سزائے موت ایک متنازع معاملہ ہے، کیونکہ اس فیصلے کے بعد واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ البرٹ کامیو بحالی اور اصلاح کے تصور پر زور دیتے تھے، تاہم ان کا خیال تھا کہ ریاست کو مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے اور کسی بھی مقدمے میں سزا سنانے سے پہلے مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنانی چاہییں۔
کامیو کے مطابق، کسی ملزم کو معمولی نوعیت کے قابلِ ضمانت یا ناقابلِ ضمانت جرم میں سزا سنانے سے پہلے طویل عرصے تک مقدمے کا سامنا کرنا پڑنا بھی منصفانہ ٹرائل کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ اس دوران ملزم جرم میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں یا دیگر شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے اور گواہوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ دوسری جانب، فوری انصاف کے نام پر جلد بازی بھی اختیارات کے ناجائز استعمال اور ناانصافی کا سبب بن سکتی ہے۔
کامیو کا ماننا تھا کہ انصاف کے تقاضوں کو رحم دلی اور انسانی ہمدردی کے ساتھ متوازن رکھنا ضروری ہے، کیونکہ عدالتیں بھی انسان ہی چلاتے ہیں اور انسانی غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
اسی فکر کی روشنی میں میں نظیر اکبرآبادی کی مشہور نظم ”آدمی نامہ“ کے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا، جن میں شاعر نے انسان کے اندر موجود نیکی اور بدی کی حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ خوبی اور خامی دونوں انسان ہی کے وجود میں پائی جاتی ہیں۔
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
کل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہور
شیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زور
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمی
البرٹ کامیو اور نظیر اکبرآبادی، دونوں کے خیالات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ الزام لگانے والا اور ملزم یا مجرم، دونوں انسان ہیں۔ فطری طور پر انسان سے غلطی سرزد ہو سکتی ہے، اس لیے حساس اور پیچیدہ معاملات میں اعتدال، احتیاط اور توازن کو فروغ دینا ضروری ہے۔
ریاستی اختیارات پر قانونی پابندیاں اور شہریوں کے حقوق
البرٹ کامیو کے علاوہ جرمنی کے ممتاز قانون دان، قانونی محقق اور سیاست دان روڈولف فان گنائسٹ (Rudolf von Gneist) نے بھی ریاستی اختیارات کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے تصور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اپنی تصنیف ڈیر رائٹس شٹات (Der Rechtsstaat)، جو 1872ء میں شائع ہوئی، میں ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جس کا انتظامی نظام غیر محدود سرکاری صوابدید کے بجائے واضح قانونی حدود کے تحت کام کرے۔
یہ تصنیف جرمنی کے اتحاد اور پروشیا کی آئینی کشمکش کے دور میں سامنے آئی۔ روڈولف کا مؤقف تھا کہ حکومت کو قانون کا پابند ہونا چاہیے اور شہریوں کو غیر قانونی انتظامی اقدامات کے خلاف داد رسی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے آئینی اصولوں کے تحفظ کی حامل مضبوط ادارہ جاتی ساخت قائم کرنا ضروری ہے۔
روڈولف کے نزدیک شہریت ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے تحت ریاست پر لازم ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی عزت، وقار اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔
میرے علم اور فہم کے مطابق، روڈولف کا یہ نظریہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ذرا ایک ایسی حکومت کا تصور کریں جس کے پاس غیر معینہ اختیارات ہوں، جو اپنی مرضی سے قوانین میں ترمیم کر سکے، کسی کو بھی منصفانہ ٹرائل کے بغیر قید کر سکے، مارشل لا نافذ کر سکے اور اپنی پسند کی پالیسیاں بنا سکے۔ حیران کن طور پر یہ محض تصور نہیں بلکہ دنیا ماضی میں ایسی صورتِ حال دیکھ چکی ہے۔
تقسیمِ ہند سے قبل برصغیر کے علاقوں میں بھی اس کی ایک نمایاں مثال 13 اپریل 1919ء کے جلیانوالہ باغ، امرتسر قتلِ عام کی صورت میں سامنے آئی۔ جنرل ڈائر نے رولٹ ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ جب ریاستی طاقت پر مؤثر قانونی اور ادارہ جاتی پابندیاں موجود نہ ہوں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح فرانسیسی انقلاب کے دوران میکسیملین روبسپیئر کے دورِ اقتدار سے منسوب بدنامِ زمانہ ”دورِ دہشت“ (Reign of Terror) میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے نتیجے میں مبینہ طور پر محض شبہات کی بنیاد پر ہزاروں افراد جان سے گئے۔ اس دور کے حوالے سے 45 ہزار ہلاکتوں کا عدد بھی بیان کیا جاتا ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی سکیورٹی فورس (FSF) کے اختیارات اور اس کے مبینہ ناجائز استعمال کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، جن کا تعلق بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے مقدمے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
ان تاریخی واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان ایک بار پھر اسی نوعیت کے المیے کی جانب بڑھنے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے، خصوصاً کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے قیام کے بعد۔ ملتان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اور اس سے قبل چکوال میں ہونے والے واقعے نے سی سی ڈی کو دیے گئے اختیارات کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے مطابق، سی سی ڈی نے اپریل سے دسمبر 2025ء کے آٹھ ماہ کے دوران 924 مشتبہ افراد کو ہلاک کیا۔ تاہم، ایسے کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں جو اس بات کی تصدیق کریں کہ ان تمام ہلاکتوں کے پیچھے قانونی جواز موجود تھا۔
صرف سی سی ڈی ہی نہیں بلکہ نومبر 2025ء میں منظور کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کا متحدہ عہدہ تشکیل دینا بھی پاکستان میں عسکری اختیارات کو ایک جگہ مجتمع کرنے کی آئینی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ جب اختیارات کا توازن بگڑتا ہے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں، جن کی قیمت اکثر بے گناہ افراد کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں روڈولف فان گنائسٹ کا نظریہ انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اختیارات کی تقسیم ضروری ہے تاکہ ان کے ناجائز استعمال کے امکانات کم سے کم ہوں۔ اسی طرح منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے اور عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عدالتی نظام کو سیاسی جانبداری سے پاک رکھا جائے۔
اختتامیہ
آخر میں، شہریت کے تصور کو ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک مشترکہ معاہدے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جس کے تحت ریاستی اختیارات کا استعمال قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی ناانصافی یا المیے سے بچا جا سکے۔
یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے عدالتی، سیاسی، سماجی اور عسکری نظام کی ترقی کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں۔ معاشرے میں مکالمے، سوال اٹھانے اور تنقید کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے تاکہ جمہوریت اور انصاف کی بہترین صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔
تحریر: طلحہ قمر
طلحہ قمر، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لبرل آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے طالب علم ہیں۔ وہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اسکرپٹ رائٹر اور متعدد عوامی آگاہی مہمات (PSAs) کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اس وقت وہ بین المذاہب ہم آہنگی، صنفی مساوات، اقلیتوں کی شمولیت، سماجی یکجہتی اور ویکنس کلچر سے متعلق موضوعات پر کام کر رہے ہیں۔