اسلامو فوبیا: اسلام میں انسانی حقوق کا تصور اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ
تحریر: ڈاکٹر غلام نبی فائی، چیئرمین، ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس
چار حصوں پر مشتمل سلسلے کی پہلی قسط
اقوام متحدہ کی جانب سے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منایا جانا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت، تعصب اور امتیازی سلوک ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ دن نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ مذاہب، ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان احترام، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت بھی اجاگر کرتا ہے۔
27 اکتوبر 2026 کو باکو پروسیس کے موقع پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ نمائندے برائے تہذیبوں کا اتحاد، میگوئل اینجل موراتینوس نے اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی متعدد مواقع پر مذہبی منافرت اور عدم برداشت کے خاتمے پر زور دے چکے ہیں۔ ان کے پیشرو کوفی عنان نے بھی مذہبی اور ثقافتی تنوع کو انسانی معاشروں کی طاقت قرار دیتے ہوئے باہمی احترام اور مکالمے کی اہمیت اجاگر کی تھی۔
اسلامو فوبیا کا تصور اور اس کے اثرات
اسلامو فوبیا سے مراد اسلام یا مسلمانوں کے خلاف خوف، تعصب، نفرت اور امتیازی رویہ ہے۔ یہ رویہ مختلف شکلوں میں سامنے آ سکتا ہے، جن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، مذہبی علامات پر پابندیاں، سماجی امتیاز، تشدد اور ادارہ جاتی سطح پر غیر مساوی سلوک شامل ہیں۔
1997 میں برطانیہ کے ادارے رنیمیڈ ٹرسٹ نے اسلامو فوبیا کے تصور کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اس رپورٹ میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے منفی تصورات اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے بعد سے اسلامو فوبیا پر عالمی سطح پر علمی، سماجی اور سیاسی مباحث میں اضافہ ہوا ہے۔
اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سمجھا جائے اور ان کا موازنہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے کیا جائے۔ اسلام بنیادی انسانی وقار، مساوات، انصاف اور مذہبی آزادی کی تعلیم دیتا ہے، جو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے بنیادی تصورات سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا کے تمام انسانوں کے لیے آزادی، مساوات، انصاف اور وقار کو یقینی بنانا ہے۔
اعلامیے کا آرٹیکل 1 کہتا ہے کہ تمام انسان آزاد اور عزت و حقوق کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں عقل اور ضمیر عطا کیے گئے ہیں، اس لیے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے۔
اسی طرح آرٹیکل 2 کے مطابق ہر شخص کو نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب، سیاسی یا دیگر رائے، قومی یا سماجی پس منظر، جائیداد، پیدائش یا کسی دوسری حیثیت کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے۔
اسلام بھی انسانوں کے درمیان نسل، رنگ، زبان اور خاندانی حیثیت کی بنیاد پر برتری کو تسلیم نہیں کرتا۔ قرآنِ مجید کی سورۃ الحجرات، آیت 13 میں ارشاد ہے:
"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانوں کے درمیان حقیقی فضیلت کا معیار نسل، قومیت یا سماجی مرتبہ نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک کردار ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع: انسانی مساوات کا ابدی پیغام
رسول اللہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں انسانی مساوات، جان و مال کے احترام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا جامع پیغام دیا۔
آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کسی کالے کو گورے پر، سوائے تقویٰ کے۔
یہ تعلیم انسانی مساوات اور نسلی امتیاز کے خاتمے کے اصول کو واضح کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بھی تمام انسانوں کی برابری اور امتیازی سلوک کی ممانعت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ اور انصاف کی عملی مثال
اسلامی تاریخ میں عدل و انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ ان میں حضرت عمر بن خطابؓ اور مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے سے متعلق ایک واقعہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
روایت کے مطابق، ایک مصری شخص نے حضرت عمرؓ کے سامنے شکایت پیش کی کہ گورنر کے بیٹے نے اسے ناحق مارا تھا۔ حضرت عمرؓ نے شکایت کا نوٹس لیا اور گورنر کے بیٹے کو طلب کیا۔ پھر متاثرہ شخص کو انصاف فراہم کرتے ہوئے اسے گورنر کے بیٹے سے بدلہ لینے کا حق دیا۔
اس موقع پر حضرت عمرؓ سے منسوب یہ تاریخی الفاظ بھی بیان کیے جاتے ہیں:
"تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟"
یہ واقعہ اسلامی تصورِ انصاف کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس میں حکمران خاندان کے فرد کو بھی قانون اور احتساب سے بالاتر نہیں سمجھا گیا۔
تہذیبوں کے درمیان مکالمہ اور باہمی احترام
معروف مؤرخ آرنلڈ ٹوائن بی نے انسانی تہذیبوں کے مطالعے میں مذہب اور اخلاقی اقدار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کے کام سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنے کے لیے ان کے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی پس منظر کا مطالعہ ضروری ہے۔
اسلام بھی دیگر مذاہب اور تہذیبوں کے ساتھ مکالمے، احترام اور پرامن بقائے باہمی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں مختلف قوموں اور قبائل کی تخلیق کو ایک دوسرے کو پہچاننے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ نفرت اور تصادم کا سبب۔
اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ہر فرد کو اس کے عقیدے سے قطع نظر بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔
اسلامی تعلیمات اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، دونوں انسانی وقار، مساوات، انصاف اور امتیازی سلوک کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔ ان مشترکہ اصولوں کو فروغ دے کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ممکن ہے جہاں مذہب، نسل یا ثقافت کی بنیاد پر کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔