*بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں بلکہ قلم ہے*

*بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں بلکہ قلم ہے*          


ریاست پاکستان اور حکومت بلوچستان بلوچ نوجوانوں کو جدید علوم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، لیکن دوسری جانب فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں نوجوانوں کو من گھڑت کہانیاں سنا کر اور برین واشنگ کے ذریعے گمراہ کرکے پہاڑوں پر لے جاتی ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔حکومت بلوچستان کی جانب سے اس وقت جنوبی بلوچستان میں نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت پنجگور، تربت اور خاران میں آئی ٹی ہبز اور ڈیجیٹل مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان مراکز کا مقصد نوجوانوں کو ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ اور گرافک ڈیزائننگ جیسی جدید مہارتوں سے آراستہ کرکے فری لانسنگ اور آن لائن روزگار کے قابل بنانا ہے۔ حکومت بلوچستان کا سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ DigiBizz پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو فری لانسنگ، ای بزنس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے منسلک ہو کر روزگار حاصل کر سکیں۔


فنی تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی(TEVTA-B) کے تحت صوبے کے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی نظام کو منظم کیا جا رہا ہے۔ مختلف محکموں کے زیرانتظام پولی ٹیکنک اداروں، ٹیکنالوجی کالجز اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کوTEVTA-B کے ریگولیٹری اور آپریشنل کنٹرول میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ فنی تعلیم کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔جنوبی بلوچستان میں گوادر پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ، تربت ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر، گوادر ووکیشنل ٹریننگ سینٹر اور پنجگور کے علاقے خدابادان کا ویمن اسکل ڈویلپمنٹ سنٹر خواتین اور نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں فنی مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ صنعت اور تجارت کی ضروریات کے مطابق تین سے چھ ماہ کے مختصر کورسز بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ فنی تعلیم کو صنعتی ضروریات کے مطابق بنانے کے لیے TEVTA B-اور پاک سوزوکی موٹر کمپنی کے درمیان معاہدے کے تحت مختلف فنی اداروں کو 12 جدید آٹوموبائل انجن فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے طلبہ کو گاڑیوں کے انجنوں کی عملی تربیت دی جائے گی۔


وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت TEVTA- B-کے بورڈ اجلاس میں 25 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنے اور 30 ہزار ہنرمندوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع سے منسلک کرنے کے منصوبے پر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ٹیکنیکل اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے انسٹیٹیوٹ رجسٹریشن پورٹل بھی متعارف کرایا گیا۔ خواتین کو جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے محکمہ محنت و افرادی قوت بلوچستان اور برٹش کونسل کےTVET-IV پروگرام کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام میں ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک شعبوں میں تربیت کے ذریعے خواتین کے لیے روزگار اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی گئی ہے، جبکہ یورپی یونین کی مالی معاونت بھی اس پروگرام کا حصہ ہے۔اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا جنوبی بلوچستان کوسٹل ریجن اسکالرشپ پروگرام بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت گوادر، لسبیلہ، کیچ اور آواران کے طلبہ وظائف سے مستفید ہو رہے ہیں، جس سے پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی آسان ہو رہی ہے۔


اسی طرح یونیورسٹی آف تربت اور بلوچستان ایمرجنگ لیڈرز انیشیٹو کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی میں ڈیجیٹل آٹومیشن اور تعلیمی و انتظامی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں عالمی بینک کے تعاون سے GRADES-Bمنصوبہ بھی اہم پیش رفت ہے۔ اس کے تحت اڑھائی لاکھ بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے، تین ہزار اضافی کلاس رومز تعمیر کرنے، 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ شروع کرنے اور پانچ ہزار اساتذہ کی تربیت کا منصوبہ شامل ہے۔ 400طالبات کے لیے فنڈڈ وظائف اور محفوظ ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔بلوچستان میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد ایک اہم تعلیمی چیلنج ہے۔ حکومت بلوچستان نے نان فارمل ایجوکیشن ایکٹ 2025 کی کابینہ سے مشروط منظوری دے کر غیر رسمی تعلیم کے نظام کو قانونی بنیاد فراہم کرنے کی جانب قدم اٹھایا ہے۔ اس قانون کے تحت 10 سے 16 سال کی عمر کے ان بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کی کوشش کی جائے گی جو مختلف وجوہات کی بنا پر اسکول نہیں جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ڈبل شفٹ اسکولوں اور غیر رسمی تعلیمی مراکز کا نظام بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔


سرکاری اعدادوشمار کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان کے زیرانتظام صوبے میں 15 ہزار 368 سرکاری اسکولوں میں 12 لاکھ 11 ہزار 757 طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ حکومت بلوچستان نے تعلیمی سال 2026ء کے لیے 2 لاکھ 61 ہزار 12 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ گزشتہ برس 2 لاکھ 37 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف حاصل کیا گیا۔ اسی طرح تعلیمی سال 2025-26ء کے لیے ایک کروڑ 15 لاکھ درسی کتابیں شائع کی گئیں تاکہ طلبہ کو مفت کتابیں فراہم کی جا سکیں۔ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اسکول سینسس اور اساتذہ کی حاضری کے انتظامی نظام پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔بلوچستان کے نوجوانوں کے سامنے ترقی کے کئی راستے موجود ہیں۔ جہاں وہ اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نوجوانوں کو تعلیم، جدید علوم اور ہنر کے حصول پر توجہ دینا ہوگی۔ آج بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا پھر ان کالعدم تنظیموں کا ساتھ دیں گے جو بیرونی اشاروں پر ان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک رہی ہیں، جن کے ہینڈلز بیرون ممالک میں عیاشی کی زندگیاں گزار رہے ہیں، جن کے بچے فارن یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں اور بلوچستان میں نوجوانوں کو خودکش بمبار بنا رہے ہیں۔ جن کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے تھا، آج ان ہاتھوں میں بندوق ہے۔ بلوچ نوجوانوں کو اپنی ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں بلکہ قلم ہے۔