آذر بائیجان میں سکارف کی مخالفت یا اسلام کی مخالفت ؟اصل کہانی کیا ہے ؟
مسلم دنیا میں ہونے والے پراپیگنڈہ کے پیچھے کیا سازش ہے ؟
اصل میں سکارف کا ایشو کوئی دینی یا مذہبی مسئلہ نہیں اور سکارف مذہبی شناخت بھی نہیں، یہ تہذیبی شناخت ہے جسے مذہب کا سوئے استعمال کرتے ہوئے بعض اسلامی ممالک نے اسے مذہبی شناخت بنا دیا ہے ۔اذر بائیجان کے کچھ ہمسایہ مسلم ممالک اس مبینہ مذہبی شناخت کی آڑ میں اپنا مذہبی ایجنڈا آذر بائیجان میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور سکارف کی آر میں اپنا نکتہ نظر اور پراکسی اسٹیبلش کرنا چاہتے ہیں ۔اذرباییجان کی قیادت نے اس سازش کا بروقت ادراک کیا ہے اور سکارف کی آڑ میں ترکی ،پاکستان آذربائیجان سمیت اسلامی ممالک میں تفریق پیدا کرنے اور آذر بائیجان کو ف ر ق ہ وارانہ جنگ کا میدان بنانے کی سازش کو ناکام بنایا ہے ۔جس پر اس کے خلاف اور تو کوئی بس نہیں چلا گھٹیا سوشل میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے اور عام مسلمان انجانے میں اس سنسنی خیزی اور جھوٹ کی لپیٹ میں آ رہے ہیں ۔پاکستانی ،آذربائیجانی اور ترک میڈیا کو اس سازش کو دلائل کے ساتھ بے نقاب کرنا چاہیے اور ایک تہذیبی شناخت کو جو کہ مبینہ مذہبی شناخت بنا دی گئی ہے اس کی آڑ میں ایک اسلامی ملک کو اکھاڑہ بنانے کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے ۔اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان ،ترکی اور آذر بائیجان کی حکومتوں نے اس سازش کو سمجھا ہے اس لیے تینوں حکومتوں کی طرف سے اس پراپیگنڈے کی تردید کی گئی ہے جب کہ عوامی سطح پر بے چینی پھیلی ہوئی ہے جس کا تدارک کرنا اور عام آدمی تک اصل بات پہنچانا تینوں ممالک کے میڈیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔۔۔