وزیر تجارت جام کمال خان کی ترک ہم منصب سے ملاقات
متبادل سرخی: ترک وزیر تجارت کی پاکستانی آموں کی درآمدات بڑھانے میں تعاون کی یقین دہانی، وفد پاکستان بھیجنے پر اتفاق
استنبول، 4 نومبر 2026: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے استنبول میں اقتصادی و تجارتی تعاون کی تنظیم (COMCEC) کے 42ویں اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے دوطرفہ ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی تجارت کے فروغ، پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور پاکستان میں ترک سرمایہ کاری کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
دونوں وزرائے تجارت نے باہمی اقتصادی اور تجارتی دلچسپی کے امور پر مفصل تبادلہ خیال کیا اور پاکستان اور ترکیہ کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
جام کمال خان نے باسمتی چاول سے متعلق پاکستان کے جائز مؤقف کی ترکیہ کی جانب سے بھرپور حمایت کو سراہا اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کے تحفظ اور فروغ کے لیے مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر تجارت نے پاکستان میں ترک کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی اجاگر کیا، خصوصاً کراچی انڈسٹریل پارک میں ترک کاروباری اداروں کے لیے مختص ایک ہزار ایکڑ اراضی کا ذکر کیا۔ انہوں نے ترک کمپنیوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صنعتی یونٹس قائم کرنے اور پاکستان میں اپنی پیداواری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی دعوت دی۔
پاکستان کی زرعی برآمدات کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے جام کمال خان نے ترک مارکیٹ تک بہتر رسائی اور پاکستانی آموں کی برآمدات میں اضافے کے لیے ترکیہ کا تعاون طلب کیا۔
ترک وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے جواب میں ترکیہ میں پاکستانی باسمتی چاول کی مارکیٹ موجودگی اور صارفین میں اس کی پہچان بڑھانے کے لیے مؤثر مارکیٹنگ اور برانڈنگ کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستانی آموں کی درآمدات میں اضافے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی اور دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کو وسعت دینے کے امکانات کو تسلیم کیا۔
ایک اہم پیش رفت کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے دوطرفہ تجارتی نظام کا جائزہ لینے اور تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات تلاش کرنے کی غرض سے ترک حکام کا ایک وفد پاکستان بھیجنے پر اتفاق کیا۔
دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ اقتصادی مواقع کو حقیقی تجارتی اور سرمایہ کاری کے نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ادارہ جاتی روابط، کاروباری تعاون اور باہمی رابطہ کاری کو مسلسل فروغ دینا ضروری ہے۔
وزیر تجارت کی سیسریک کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات
دریں اثنا، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کامسیک اجلاس کے موقع پر اسلامی ممالک کے لیے شماریاتی، اقتصادی اور سماجی تحقیق و تربیت کے مرکز (SESRIC) کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ زہرا زمرُت سلجوق سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ڈائریکٹر جنرل نے وزیر تجارت کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق سیسریک کی جاری سرگرمیوں، تحقیقی اقدامات اور رپورٹس کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے شماریاتی معلومات اور تجزیاتی بصیرت فراہم کرنے میں ادارے کے کردار کو اجاگر کیا۔
جام کمال خان نے سیسریک کی خدمات کو سراہتے ہوئے اقتصادی تحقیق اور پالیسی سازی میں درست، قابلِ اعتماد اور مستند اعداد و شمار کی بنیادی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معتبر شماریاتی معلومات اور شواہد پر مبنی تجزیے او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی رجحانات کی نشاندہی، مارکیٹ کی صورتحال کو سمجھنے اور تجارتی امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اعداد و شمار کے معیار میں بہتری اور جامع تجارتی تجزیے کے ذریعے رکن ممالک غیر استعمال شدہ مواقع کی نشاندہی، موجودہ تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور او آئی سی کے اندر تجارت بڑھانے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی وضع کر سکتے ہیں۔
انہوں نے تحقیق پر مبنی تعاون کو مضبوط بنانے اور قابلِ اعتماد تجارتی اعداد و شمار سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ باخبر فیصلوں اور او آئی سی ممالک کے درمیان وسیع تر اقتصادی انضمام کو فروغ دیا جا سکے۔
ان ملاقاتوں سے ترکیہ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کو تجارتی شراکت داری، زرعی تجارت اور صنعتی تعاون کے ذریعے مزید مستحکم بنانے کے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے خطے میں شواہد پر مبنی اقتصادی تعاون اور تجارتی انضمام کو فروغ دینے کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔