بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ، مسیحی خاتون کی تدفین پر تنازع
مودی راج میں اقلیتوں پر مظالم، ہندو رسومات پر جبراً مجبور
نئی دہلی: مودی حکومت کے زیرِ سایہ بھارت میں ہندوتوا کے بڑھتے اثر و رسوخ اور اقلیتوں کے خلاف منظم مظالم کے تشویشناک رجحان پر عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مودی سرکار کی جانب سے نفرت اور تقسیم کو ہوا دینے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
عالمی جریدے دی کرسچن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک متوفی مسیحی خاتون کی آخری رسومات کے دوران لواحقین کو ہندو رسومات کے تحت تدفین کرنے پر مجبور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاست چھتیس گڑھ اب مسیحی برادری پر پرتشدد حملوں اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والے مظالم کا بڑا گڑھ بن چکی ہے۔
ایک مقامی پادری نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو ظلم کی انتہا قرار دیا اور کہا کہ بھارت میں اب مرنے والے بھی محفوظ نہیں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تشدد کا سہارا لے کر غریب مسیحی خاندانوں کو جبراً غیر مذہبی رسومات پر مجبور کرنے والے عناصر کو قانونی کارروائی یا سزا کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اقلیتوں کے خلاف جاری ظالمانہ اور امتیازی اقدامات نے نام نہاد سیکولر بھارت کے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا ہے