افغانستان: مزاحمتی محاذ متحرک، حملوں میں 3 طالبان اہلکار ہلاک
قندھار اور ہلمند میں کارروائیاں، طالبان کی سکیورٹی کمزوریاں عیاں
کابل: افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت آ گئی ہے اور مختلف محاذوں پر ہونے والی کارروائیوں نے سکیورٹی انتظامات کی کمزوریاں بے نقاب کرنا شروع کر دی ہیں۔
مزاحمتی تنظیم ’افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ‘ نے صوبہ قندھار اور ہلمند میں حملوں کے دوران طالبان انتظامیہ کے 3 سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق صوبہ ہلمند کے علاقے امام رباط چوکی میں قائم سکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے 2 اہلکار مارے گئے جبکہ ان کے قبضے سے 2 کلاشنکوف رائفلیں بھی چھین لی گئیں۔
مزید برآں قندھار کے باغ پل بازار میں کی گئی ایک اور کارروائی کے دوران طالبان کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ قندھار سے بلخ اور ہرات سے بدخشاں تک افغان طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
دوسری جانب دفاعی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ سمیت مختلف مزاحمتی دھڑوں کے حملوں میں اچانک تیزی طالبان حکومت کی بڑھتی ہوئی اندرونی کمزوری اور عوامی سطح پر گرتی ساکھ کا واضح ثبوت ہے۔