افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ: وسطی ایشیا کی مشترکہ فوجی مشقیں

افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ: وسطی ایشیا کی مشترکہ فوجی مشقیں

Sep 16, 2026|ویب ڈیسک

عسکریت پسندی کی روک تھام: سی ایس ٹی او کی قازقستان میں مشقیں


آستانہ


افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کے بڑھتے خطرات اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وسطی ایشیا کے ممالک کے عسکری اتحاد 'کلیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن' (سی ایس ٹی او) کے زیرِ اہتمام قازقستان میں مشترکہ جنگی مشقیں جاری ہیں۔


وسطی ایشیا کے عسکری و سیاسی امور پر نظر رکھنے والے معروف جریدے 'دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا' کی رپورٹ کے مطابق، قازقستان میں جاری ان فوجی مشقوں کا بنیادی مقصد خطے میں افغان سرحد کے راستے عسکریت پسندوں کی ممکنہ دراندازی کو روکنا اور رکن ممالک کی مشترکہ سرحدی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مؤثر اور مربوط بنانا ہے۔


رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ افغانستان کی جانب سے مسلسل بڑھتے سرحدی خطرات اور حالیہ جھڑپوں میں تاجک اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد دوشنبے حکومت پہلے ہی ہنگامی بنیادوں پر اضافی سیکیورٹی تعاون کی اپیل کر چکی ہے، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔


دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ایس ٹی او کی 'روبیژ 2026' مشقیں افغان طالبان رجیم کی دہائیوں پر محیط انتہا پسندی اور عدم استحکام پر مبنی پالیسیوں کا براہ راست ردعمل ہیں، جس کے پیشِ نظر خطے کے ممالک اپنی سرحدوں کے دفاع کو ناگزیر تصور کر رہے ہیں