مودی کے دورِ حکومت میں بھارتی میڈیا سنسرشپ کے بدترین شکنجے میں جکڑ گیا

مودی کے دورِ حکومت میں بھارتی میڈیا سنسرشپ کے بدترین شکنجے میں جکڑ گیا

Aug 16, 2026|ویب ڈیسک

بھارت میں نام نہاد جمہوری دعوؤں کے برعکس نریندر مودی کی حکومت کے دوران میڈیا کی آزادی اور حکام سے سوال پوچھنے کے آئینی حق پر سنگین قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں۔ معروف بھارتی تحقیقاتی جریدے 'دی وائر' کے مطابق موجودہ دورِ حکومت میں منظم سنسرشپ اور ریاستی دباؤ نے آزاد صحافت کا دائرہ انتہائی محدود کر دیا ہے۔


سیکشن 69 اے کا غلط استعمال اور آزادیِ اظہار پر قدغنیں

رپورٹ کے مطابق مودی انتظامیہ نے آئی ٹی ایکٹ کے متنازع سیکشن 69 اے کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اختلافی آوازوں، آزاد صحافیوں اور تنقیدی پلیٹ فارمز کو بند کرنے کے باقاعدہ اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ قانونی ماہرین اور صحافتی تنظیموں کے مطابق یہ خود ساختہ اختیارات بھارتی آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق اور آزادئ صحافت پر براہ راست حملہ ہیں۔


میڈیا پر گرتا عوامی اعتماد اور کلیدی حقائق

سیکشن 69 اے کے تحت کریک ڈاؤن: حکومتی بیانیے سے اختلاف کرنے والے ڈیجیٹل مواد، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور صحافتی مواد پر مسلسل پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔


رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کا سروے: بھارتی صحافی پوجا پرسنّا کے مطابق عالمی ادارے رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں انکشاف ہوا کہ بھارت میں مین اسٹریم خبروں پر عوامی اعتماد گھٹ کر محض 39 فیصد رہ گیا ہے۔


خبروں سے لاتعلقی: ریاستی پروپیگنڈا اور یکطرفہ کوریج کے سبب 52 فیصد بھارتی شہری اب مین اسٹریم نیوز دیکھنے اور پڑھنے سے مکمل گریز کر رہے ہیں