بھارت: انتخابی فہرستوں سے اقلیتوں کے نام خارج، الیکشن کمیشن پر شدید تنقید

بھارت: انتخابی فہرستوں سے اقلیتوں کے نام خارج، الیکشن کمیشن پر شدید تنقید

Oct 1, 2026|ویب ڈیسک



**نئی دہلی:** بھارتی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی رپورٹس کے بعد ملک بھر میں شدید عدم اعتماد اور نوجوانوں کی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔


حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) کے ذریعے مخصوص ووٹرز کے نام خارج کیے جانے کے الزامات سامنے آنے پر نوجوان طبقہ احتجاجاً میدان میں آ گیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق مودی حکومت کے زیرِ اثر چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کی جانے والی مبینہ ہیرا پھیری نے بھارت میں نام نہاد جمہوریت کے دعوؤں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔


بھارتی اخبار 'ہندوستان ٹائمز' کی ایک رپورٹ کے مطابق منی پور کے مسیحی اکثریتی علاقوں میں ایس آئی آر کے تحت ایک لاکھ 58 ہزار 677 ووٹرز کے نام فہرستوں سے حذف کیے گئے، جس سے انتخابی عمل میں واضح امتیازی سلوک بے نقاب ہوا ہے۔


اس صورتحال پر معروف بھارتی ماہرِ معاشیات پرکالا پربھاکر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی ایس آئی آر کی آڑ میں دانستہ طور پر اقلیتوں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر رہے ہیں تاکہ بھارت کو ایک ’اعلیٰ ذات کی ہندو ریاست‘ میں تبدیل کیا جا سکے۔