مکہ مکرمہ میں تاریخی پیش رفت: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 'مشترکہ دفاعی معاہدہ' طے پا گی

مکہ مکرمہ میں تاریخی پیش رفت: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 'مشترکہ دفاعی معاہدہ' طے پا گی

Aug 7, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک بلاشبہ تاریخی 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' پر باضابطہ دستخط ہو گئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ معرکہ آرا معاہدہ خانہ کعبہ کے مقدس احاطے میں منعقدہ ایک خصوصی سربراہی اجلاس کے دوران طے پایا، جس میں تینوں برادر اسلامی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

​ معاہدے کا اہم ترین نقطہ: "ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا"

​دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی محور اجتماعی دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اس اہم ترین دستاویز پر دستخط کیے۔

​معاہدے کے نمایاں پہلو اور اہم نکات:

​اجتماعی دفاعی ضمانت: معاہدے کی اہم ترین شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت یا حملہ تینوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔

​دفاعی شعبوں میں تعاون: صنعتی، تکنیکی اور عملیاتی سطح پر دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو فروغ دیا جائے گا۔

​اسلامی یکجہتی کا مظہر: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ یہ تاریخی معاہدہ خانہ کعبہ کے مقدس احاطے میں طے پایا جو امت مسلمہ کے اتحاد اور پائیدار شراکت کا ثبوت ہے۔

​علاقائی امن و استحکام: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی، اور خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کا آئنہ دار ہے۔

​سٹریٹجک شراکت داری اور مضبوط برادرانہ تعلقات کا نیا دور

​ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی قوت مزید ناقابل تسخیر ہوگی۔ یہ پیش رفت نہ صرف دفاعی صلاحیتوں کو یکجا کرے گی بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دیرینہ برادرانہ روابط کو معاشی و تکنیکی دفاعی محاذ پر مزید مستحکم کرے گی۔