بلوچستان میں بغاوت نہیں،کھلی دہشت گردی

بلوچستان کے حوالے سے ایک عرصے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہاں کوئی بغاوت یا سیاسی مزاحمت جاری ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچستان میں کوئی بغاوت نہیں بلکہ خالصتا دہشت گردی ہے۔ میں اپنے متعدد کالم میں پہلے بھی یہ بات واضح کر چکا ہوں کہ بلوچستان میں خصوصا بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کو کسی سیاسی جدوجہد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تنظیمیں معصوم بلوچ شہریوں، مزدوروں، سیکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات، شاہراہوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ ان تنظیموں کو بھارت کی جانب سے اسلحہ، تربیت اور مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین بلوچستان میں دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے وقت وہاں بڑی مقدار میں اسلحہ چھوڑا گیا تھا، جو آج ان کالعدم تنظیموں کے پاس موجود ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ 10 اگست 2026 کی رپورٹ میں افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور ان کے درمیان گٹھ جوڑ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جو بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ رپورٹ میں القاعدہ کی جانب سے ٹی ٹی پی، داعش خراساں (ISIL-K) کو لاجسٹک سپورٹ، تربیت اور مالی معاونت کے حوالے سے تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے تربیت کار (ٹرینرز) ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی تنظیموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یوں افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطہ کھل کر سامنے آتا ہے، جس کے اثرات پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔ راقم نے اپنے کئی کالمز میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ اس وقت کابل میں ٹی ٹی پی کے تین کیمپ اور جلال آباد میں بی ایل اے کے دو تربیتی کیمپ موجود ہیں، جو بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں ستمبر 2024 تک چار سو بی ایل اے دہشت گرد ٹریننگ لے رہے تھے، جو اپنے آقاؤں کے کہنے پر بلوچستان میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے حملوں میں جدید اسالٹ رائفلز، نائٹ وژن آلات، تھرمل امیجنگ سسٹمز، سنائپر پلیٹ فارمز اور ڈرون حملہ آور نظام کے استعمال ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ اسلحہ افغان حکام کی جانب سے فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ واضح رہے کہ آج بلوچستان میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے پاس بھی یہی ہتھیار موجود ہیں، جو بی ایل اے کے افغانستان کے ساتھ روابط کو بے نقاب کرتا ہے۔گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں بلوچستان کے حوالے سے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی بغاوت نہیں بلکہ یہ خالصتا دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی تصدیق کرتی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں۔ پاکستان افغانستان سے ہونے والے حملوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی کامیاب مہم چلا رہا ہے، رواں سال ہزاروں آپریشنز میں متعدد دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں اور مزید دہشت گردوں اور ان کے پراکسیز کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ راقم نے 30 ستمبر 2024 کو بلوچستان کے حوالے سے اپنے کالم ”آزادی کی تحریکیں یا دہشت گرد تنظیمیں“ میں لکھا تھا کہ بلوچستان کوئی مقبوضہ علاقہ نہیں کہ جہاں کوئی آزادی کی جنگ لڑی جا رہی ہو بلکہ یہ کھلی دہشت گردی ہے۔ معصوم بچوں، خواتین حتیٰ کہ بے زبان جانوروں پر ظلم کرنا، اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملے، سڑکوں کو نقصان پہنچانا، مساجد اور مدارس کا تقدس پامال کرنا کسی آزادی کی جدوجہد کا حصہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔معاشرے میں فساد پھیلانے والے اور لوگوں کا ناحق قتل کرنے والے کسی بھی معافی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ یاد رہے کہ اسلام میں کوئی بھی جنگ مال غنیمت کے حصول یا کشور کشائی کے لیے نہیں لڑی گئی بلکہ زیادہ تر ظلم سے آزادی اور باقی اپنی ریاست اور رعایا کے دفاع کے لیے لڑی گئی ہیں۔ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان تنظیموں کے دہشت گردوں کی درندگی کے باوجود ریاست بار بار ان کو قومی دھارے میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ مگر جب دانت کا درد کھانے پینے سے قاصر کر دے تو ”اخراج دنداں“ لازم ہو جاتا ہے۔ آج بلوچستان میں ہندوستان کی آشیر باد سے چلنے والی عسکریت پسند تنظیمیں اور ان کے سہولت کاروں کا خیال ہے کہ وہ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کر دیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ بلاشبہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور بلوچ ایک غیور اور محب وطن قوم ہے۔ دوران کالم ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں تربت میں ایک بلوچ شہری نے ایک کھمبے پر لگے بی ایل اے کے جھنڈے کو اتار کر زمین پر پھینک کر دشمن کو واضح پیغام دیا کہ تمہارا من گھڑت پراپیگنڈا اب زمین بوس ہو چکا ہے۔تازہ ترین، فتنہ الہندوستان بی ایل اے چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے والی خواتین خدیجہ پیر جان اور صفیہ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تہلکہ خیز انکشافات کیے۔ خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ اس کا شوہر بی ایل اے سے منسلک تھا۔ 2022 میں اس کا انتقال ہوا، اس کے بعد میرے بھائی شاہد پیر جان اور اس کے دوست احسان نے مجھے ہمدردی جتاتے ہوئے تنظیم میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ مجھے پاکستان کے خلاف گمراہ کیا گیا، میں نے تنظیم کے لیے کام کیا، نوکنڈی میں حملہ کیا۔ آج میں شرمندہ ہوں اور قوم سے معافی مانگتی ہوں۔ بسیمہ کی رہائشی صفیہ نے بتایا کہ اس کو کس طرح گمراہ کیا گیا۔ سوچیے کہ جو لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے خواتین کو استعمال کرنے سے گریز نہ کریں، وہ کس طرح بلوچ عوام کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں؟میرے نزدیک اس وقت بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کا واحد اور لازمی حل ایک گرینڈ آپریشن ہے۔ کیونکہ دہشت گرد تنظیمیں بلوچ نوجوانوں کو برین واشنگ کے ذریعے گمراہ کر رہی ہیں۔