پنجگور: نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر اہم مذاکرہ

پنجگور: نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر اہم مذاکرہ

Sep 16, 2026|ویب ڈیسک

گورننس کے مسائل کا حل نئے انتظامی یونٹس میں ہے، مذاکرہ


پنجگور


یونیورسٹی آف مکران پنجگور میں نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور طرزِ حکمرانی کے مستقبل کے موضوع پر ایک اہم فکری مذاکرے کا انعقاد کیا گیا، جس کے اختتام پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں متفقہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔


مذاکرے میں سیاسی، تعلیمی، صحافتی اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات سمیت طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ملک بالخصوص بلوچستان میں انتظامی چیلنجز، طرزِ حکمرانی کے بگاڑ اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ اس معاملے پر ملک بھر میں عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے سنجیدہ بحث کا آغاز ناگزیر ہے۔


شرکاء کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام آئینی و پارلیمانی دائرہ کار کے تحت ہی عمل میں لایا جانا چاہیے، جبکہ نئے انتظامی ڈھانچے کی کامیابی کے لیے مالیاتی وسائل کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو بنیادی شرط قرار دیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ گزشتہ پانچ سے چھ دہائیوں کے دوران آبادی میں ہوشربا اضافہ اور ڈیموگرافک تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اس لیے غیر دستاویز شدہ آبادی کے مسائل اور بحرانوں کے حل کے لیے پارلیمنٹ کو نئے صوبوں کے قیام کی جانب پیشرفت کرنی چاہیے۔


مذاکرے میں شریک طلبہ و طالبات نے اس نشست کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے طویل فاصلے کے باعث مکران کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مقامی سطح پر کمزور گورننس بنیادی مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ ملک میں عدم ترقی اور سیکیورٹی چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے مقتدر حلقوں کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرنا ہوگا