جنگِ ستمبر کا سولہواں روز: بھارتی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان
راولپنڈی
ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے 16ویں روز پاکستان کی مسلح افواج نے بری، بحری اور فضائی محاذوں پر دشمن کے دانت کھٹے کرتے ہوئے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 6 ہزار 889 تک جا پہنچی جبکہ اس کے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور بھاری عسکری آلات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
سیالکوٹ اور جموں کے محاذ پر پاک فوج اور پاک فضائیہ نے دشمن کا بڑا حملہ پسپا کرتے ہوئے 36 بھارتی ٹینک تباہ کر دیے۔ واہگہ، اٹاری اور کھیم کرن کے سیکٹرز میں بھی بھارتی پیش قدمی ناکام بنا دی گئی، جہاں فورسز نے دشمن کو 12 میل پیچھے دھکیلتے ہوئے 6 میل تک کے بھارتی علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کے علاوہ پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد راجوڑی سیکٹر کا بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
فضائی اور بحری محاذوں پر بھی پاکستان کا پلڑا بھاری رہا۔ پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں نے دریائے بیاس پر بھارتی فضائیہ کے دو ہنٹر طیارے مار گرائے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے سیالکوٹ، جموں، واہگہ، اٹاری، کھیم کرن اور گدرو سیکٹرز میں دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کر کے مزید 20 ٹینک، متعدد فوجی گاڑیاں اور گن پوزیشنز تباہ کر دیں۔ ادھر پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں اپنی مکمل برتری قائم رکھتے ہوئے بھارتی بحریہ کی ہر قسم کی نقل و حرکت مکمل طور پر مفلوج کر دی۔
عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ 16 ستمبر کا دن قوم کے بے مثال جذبے کی علامت بن کر ابھرا، جہاں عوام نے اپنی بہادر افواج سے والہانہ عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے