افغان طالبان کیخلاف مزاحمت تیز، یاسین ضیا کا بڑا دعویٰ
طالبان کا کنٹرول ختم ہو رہا ہے، افغان مزاحمتی قیادت
افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ اور سابق افغان آرمی چیف جنرل یاسین ضیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور ملک میں زمینی صورتحال اب طالبان انتظامیہ کے قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان اپنی گرتی ساکھ بچانے کے لیے نام نہاد حامیوں اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کے ذریعے عوام کو اپنے بعد کے حالات سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ موجودہ حالات سے بدتر کچھ نہیں ہو سکتا۔
جنرل یاسین ضیا نے طالبان حکومت پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی آڑ میں سڑکوں کی تعمیراتی لاگت 10 گنا بڑھا کر خرد برد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کسٹم ڈیوٹی کی چوری اور شاہراہوں پر لوٹ مار کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر وسائل کی لوٹ مار کرنے والی انتظامیہ حکومت چلا سکتی ہے تو ملک کے پڑھے لکھے اور باصلاحیت افراد کو یہ حق کیوں حاصل نہیں۔
دوسری جانب دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کا تجزیہ ہے کہ افغانستان کے اندر فعال مختلف مزاحمتی محاذوں کی مسلسل کارروائیوں نے کابل کے مکمل کنٹرول کے دعوؤں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے اندر اور باہر تیزی سے ابھرتی مزاحمتی تحریکوں نے افغان طالبان کی عوامی مقبولیت اور وسیع تر گرفت کے بیانیے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں