طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان سے پنپتی دہشتگردی پر عالمی برادری کی شدید تشویش
نیویارک: قابض طالبان رجیم کی زیرِ سرپرستی افغانستان کے علاقائی اور عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کے گڑھ میں تبدیل ہونے پر بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے انتہا پسند عناصر کی مبینہ پشت پناہی کے باعث پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کو شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ میں چینی مندوب کا سخت ردعمل
اقوام متحدہ میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے متعلق منعقدہ اہم اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چینی نائب مندوب سن لئی نے واضح کیا کہ:
"افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں اب بھی ہمسایہ ممالک کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ افغان سرزمین پر مقیم دہشتگردوں کی سرحد پار حملوں کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔"
چینی نائب مندوب نے طالبان رجیم پر زور دیا کہ وہ انسدادِ دہشتگردی سے متعلق عالمی برادری سے کیے گئے اپنے تمام وعدوں کی پاسداری کرے۔ انہوں نے مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ:
طالبان رجیم افغانستان میں موجود تمام فعال دہشتگرد عناصر کے خلاف بلا تفریق مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔
عالمی برادری کو افغانستان میں انسدادِ دہشتگردی کی بدلتی صورتحال پر مسلسل اور گہری نظر رکھنی چاہیے۔
ماہرین کا تجزئیہ اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی
سیکیورٹی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق طالبان حکومت دہشتگردوں کی پشت پناہی اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے دوحہ معاہدے کی کھلم کھلا اور دانستہ ورزی کر رہی ہے۔
اہم نکات:
غیر قانونی آمدن: افغان طالبان رجیم سرحد پار عدم استحکام پھیلانے کے لیے دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال کر رہی ہے۔
علاقائی خطرات: سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کا امن و استحکام شدید متاثر ہو رہا ہے