افغان طالبان کا انجام قریب، جابر رجیم کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے: سابق افغان رکن پارلیمنٹ

افغان طالبان کا انجام قریب، جابر رجیم کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے: سابق افغان رکن پارلیمنٹ

Aug 3, 2026|ویب ڈیسک

کابل / واشنگٹن (ویب ڈیسک):


افغانستان پر قابض طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف عالمی سطح پر افغان رہنماؤں اور شہریوں کی مزاحمت میں شدید تیزی آ گئی ہے۔ دنیا بھر میں مقیم برآمد شدہ افغان سیاسی و سماجی رہنماؤں نے طالبان حکومت کے خلاف باقاعدہ محاذ کھول دیا ہے۔ اس سلسلے میں سابق افغان رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے پیشگوئی کی ہے کہ طالبان کا وجود جلد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔


طالبان کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے: بکتاش سیاوش

معروف افغان نشریاتی ادارے افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے طالبان کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:


اسلام سے بے توجہی: افغان طالبان کا حقیقی اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ صرف اور صرف دینِ اسلام کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔


انسانیت اور تعلیم کا دشمن: طالبان کا بنیادی مقصد اسلام کو خواتین کے حقوق، جدید تعلیم، فن، ثقافت اور انسانیت کے خلاف ایک جابر مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے۔


"طالبان کو صرف ایک مخصوص اور طے شدہ مدت تک برقرار رکھا گیا ہے تاکہ پس پردہ متحرک عناصر اپنے مذموم اہداف مکمل کر سکیں۔ جیسے ہی دینِ اسلام کے خلاف یہ منفی مقصد پورا ہوگا، طالبان رجیم کا وجود بھی ہمیشہ کے لیے مٹا دیا جائے گا۔"


— بکتاش سیاوش (سابق افغان رکن پارلیمنٹ)


عالمی ماہرین کا تجزئیہ اور بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت

سیاسی و دفاعی امور کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے ان کی اصلیت عالمی برادری کے سامنے مکمل طور پر ننگی کر دی ہے۔ افغان معاشرہ، بالخصوص خواتین اور نوجوان، اب اس جبر و استبداد کو مزید قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔


H2: افغان عوام کا جابرانہ رجیم کو ماننے سے انکار

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان کے اندر جاری مسلح مزاحمتی تحریکیں اور ان کی روز بروز بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان عوام اس غاصب اور جابر رجیم کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں۔ عالمی برادری میں بننے والا یہ نیا بلاک افغان طالبان کی تنہائی کو مزید گہرا کر رہا ہے