بلوچستان کے مسائل اور سرداری نظام
راقم نے 8 اور 15 ستمبر 2025 کو دو حصوں پر مشتمل ایک کالم بعنوان ”بلوچستان میں سرداری نظام مسائل کی اصل جڑ“ لکھا تھا۔ اس کالم میں واضح کیا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ وہاں کا فرسودہ سرداری نظام ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس نے دہائیوں سے عام بلوچ کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اور نہیں چاہتا کہ ایک غریب بلوچ کا بیٹا تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھے، اپنے حقوق کو سمجھے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور معاشرے میں اپنا مقام پیدا کرے۔ کیونکہ جس دن عام بلوچ کا بیٹا تعلیم یافتہ، باشعور اور معاشی طور پر خودمختار ہوگیا، اسی دن سرداری اجارہ داری کی بنیاد ہل جائے گی۔ سردار چاہتے ہیں کہ عام بلوچ ان کا محتاج رہے، ان کے سامنے ہاتھ پھیلائے، ان کے اشاروں پر چلے اور اپنے مستقبل کے فیصلے بھی انہی کی مرضی سے کرے۔ یہی سوچ بلوچستان کو ترقی کے سفر میں پیچھے رکھے ہوئے ہے۔بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کا واویلا کرنے والوں نے برسوں بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر سیاست کی، مگر کیا انہوں نے اپنے علاقوں میں تعلیم کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے؟ کیا نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے روزگار، ہنر اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے؟ اگر نہیں، تو بلوچستان کی پسماندگی کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر ڈال دینا سراسر زیادتی ہے۔سرداری نظام کی بنیاد طاقت کے ایسے ارتکاز پر قائم ہے جہاں چند خاندان پورے علاقے پر قابض ہوتے ہیں اور ہر غریب کو اپنا زر خرید غلام سمجھتے ہیں۔ اسی لیے غریب بلوچ کے بچے کی تعلیم اس اجارہ داری کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کیونکہ کتاب ہاتھ میں آنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے، سوال کے بعد شعور آتا ہے اور شعور کے بعد انسان اپنے حقوق پہچان لیتا ہے۔ جس معاشرے میں تعلیم عام ہوگی، وہاں موروثی طاقت کے وہ برج زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے جو عوام کی کمزوری کو اپنی قوت بنائے بیٹھے ہیں۔سرداری نظام کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان سرداروں کی اپنی نجی جیلیں ہیں جہاں لوگوں کو قید رکھا جاتا ہے۔ ایک طرف بلوچ عوام کی آزادی اور حقوق کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو پابند سلاسل رکھا جاتا ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے؟ جو شخص اپنے علاقے کے ایک عام بلوچ کی آزادی برداشت نہیں کرسکتا، وہ پورے بلوچستان کی آزادی کا علمبردار کیسے ہوسکتا ہے؟بلوچستان کے نوجوانوں کے ساتھ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ان کی محرومیوں کو مستقبل کی تعمیر کے بجائے ان کے ذہنوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہیں پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں من گھڑت کہانیاں سنائی جائیں، تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے، پسماندگی اور محرومی کا ڈھنڈورا پیٹا جائے اور پھر دہشت گردی کی طرف دھکیل دیا جائے۔ نوجوان کو بتایا جائے کہ بندوق اٹھانا اس کے حقوق کی جنگ ہے، حالانکہ اس بندوق کی پہلی گولی اسی کے مستقبل کو زخمی کرتی ہے۔جو ہاتھ قلم اٹھا سکتا تھا، اسے ہتھیار پکڑا دیا جاتا ہے۔ جو نوجوان یونیورسٹی میں بیٹھ کر اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرسکتا تھا، اسے پہاڑوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ جو اپنے خاندان کا سہارا بن سکتا تھا، اسے ذلت آمیز موت کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے اور پھر اس کی لاش کو ایک سیاسی بیانیے کا حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ نوجوان کی زندگی بھی چلی جائے اور اس کے خاندان کو عمر بھر رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔اگر یہ واقعی بلوچ آزادی کی جنگ ہے تو ترقیاتی منصوبے نشانے پر کیوں ہیں؟ مساجد و مدارس پر حملے کیوں کیے جاتے ہیں؟ سڑکیں اور پل کیوں تباہ کیے جاتے ہیں؟ اسکولوں اور ہسپتالوں کو کیوں نقصان پہنچایا جاتا ہے؟ تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو کیوں قتل کیا جاتا ہے؟ سرکاری تنصیبات اور عوامی سہولتوں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ جس سڑک سے عام بلوچ کا بچہ اسکول جاتا ہے، جس ہسپتال میں اس کا علاج ہونا ہے اور جس منصوبے سے روزگار پیدا ہونا ہے، اسے تباہ کرکے آخر کس کے حقوق کا تحفظ کیا جارہا ہے؟اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بھارت ملوث ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو ہتھیار، تربیت اور مالی معاونت فراہم کرنے کا مقصد بلوچ عوام کی بھلائی نہیں بلکہ بلوچستان کی بربادی ہے۔حالیہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے حوالے سے اپنی پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ وہاں کا سرداری اور ایلیٹ نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص اسٹیٹس کو عوام، خصوصاً غریب طبقے کو تعلیم اور ترقی سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ سردار کہتے ہیں، ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کرائیں گے، کئی سردار دہشت گردی میں براہِ راست ملوث ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ سردار آخر چاہتے کیا ہیں؟ اگر واقعی انہیں بلوچ عوام کی فکر ہے تو وہ سب سے پہلے نوجوان کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے دیں۔ اسے کتاب، ہنر، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کریں۔ اسے بندوق دے کر پہاڑوں میں بھیجنا بلوچستان کے مستقبل کی خدمت نہیں بلکہ اس کی تباہی ہے۔بلوچستان کو ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ ملتا ہے۔ یہ رقم کسی سردار کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کا حق ہے۔ اگر کوئی اس حق میں حصہ مانگتا ہے اور اسے منوانے کے لیے دہشت گردی کو بطور دباؤ استعمال کرتا ہے تو اسے بلوچ عوام کا خیرخواہ کیسے کہا جاسکتا ہے؟بلوچستان کے نوجوان کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کا مستقبل کسی سردار، دہشت گرد تنظیم یا بیرونی طاقت کے ہاتھ میں نہیں۔ دہشت گردی کے ذریعے ریاست کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہوگا اور ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہے۔ کوئی نوجوان کسی سردار کا تابع نہیں، ہر بلوچ نوجوان آزاد ہے اور ہر قسم کے حقوق کا مالک ہے، جس طرح ایک سردار یا اس کا بیٹا۔بلوچستان کو بندوق نہیں، کتاب چاہیے۔ اسے نفرت نہیں، تعلیم چاہیے۔ اسے دہشت گردی نہیں، روزگار چاہیے۔ اسے سرداری اجارہ داری نہیں، قانون کی حکمرانی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر اسے ایسا بلوچستان چاہیے جہاں اس کے بچوں کو آگے بڑھنے سے کوئی روک نہ سکے۔