فتنہ الہندوستان بی ایل اے کے دہشت گرد قومی دھارے میں شامل
بلوچستان میں دشمن قوتوں کی تمام سازشیں اور چالیں دم توڑ چکی ہیں، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ بلوچ نوجوان فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیموں، جو خود کو بلوچ عوام کے حقوق کی علمبردار اور آزادی کی دعویدار کہتی ہیں، کی اصلیت اور حقیقت جان کر واپس قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔گزشتہ دنوں دہشت گردی سے تائب ہونے والے ضلع پنجگور کے علاقے شاہو قلندر چتکان کے رہائشی سعید احمد ولد داد جان نے اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ ایک دوست کی برین واشنگ کی وجہ سے 2024 میں فتنہ الہندوستان کی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوا اور منگوچر میں تنظیم کے تربیتی کیمپ میں 15 روز تک تربیت حاصل کی۔ بعدازاں اس پر واضح ہوا کہ یہ بلوچ حقوق کی محافظ تنظیم نہیں بلکہ ایک دہشت گرد گروہ ہے، جسے دشمن ممالک، خصوصاً ہندوستان کی مکمل سپورٹ حاصل ہے اور جو بلوچستان میں پسماندگی و محرومیوں کے نام پر اپنی دہشت گردی کو جواز فراہم کر رہی ہے۔اسی طرح بی ایل اے چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے والے پنجگور سوردو کے رہائشی اویس قدیر نے اپنے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اسے گمراہ کرکے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل بھی درجنوں نوجوان قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔ماضی میں شاہراہ موسیٰ خیل پر پنجابیوں کو بسوں سے اتار کر ان کی شہادت میں ملوث پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے سیاسیات کے تھرڈ سمسٹر کے طالب علم اور بلوچ لبریشن آرمی کے اہم کمانڈر طلعت عزیز نے قومی دھارے میں شامل ہوتے وقت انکشاف کیا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ کونسل،طلبہ کی دہشت گردی کے لیے ذہن سازی میں ملوث ہے۔ اسے پہاڑوں میں نئی اور پرتعیش زندگی کے جھوٹے خواب دکھائے گئے۔ ملک توڑنے کی سازش کا علم ہونے پر اسے احساس ہوا کہ وہ غلط لوگوں کے ہاتھ آ گیا ہے۔ اس نے تمام بلوچ بہن بھائیوں سے ایسے لوگوں کی باتوں میں نہ آنے کی اپیل کی اور بتایا کہ کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد قوم کو گمراہ کر رہے ہیں، پنجابیوں سے بلاوجہ دشمنی کرتے ہیں اور ”لاپتا افراد“ کی حقیقت محض ایک ڈرامہ ہے،جن کو مسنگ پرسنز قرار دیا جاتا ہے وہ سبھی پہاڑوں میں موجود اور دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔قومی دھارے میں شامل ہونے والے بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) کے اہم کمانڈر نجیب اللہ کے تہلکہ خیز انکشافات بھی سامنے آئے تھے۔ نجیب اللہ نے بتایا تھا کہ زندگی کے اہم 19 سال دہشت گردوں کے ساتھ گزارنے کے بعد ان کا اصل چہرہ سامنے آیا۔ 2005 میں بلوچستان کے حالات اور محرومیوں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے ذریعے اس کی ذہن سازی ہوئی، جس کے بعد اس نے بی آر اے میں شمولیت اختیار کی اور بعدازاں کمانڈر بنا دیا گیا۔برہمداغ بگٹی کے کہنے پر دو گروپ بنائے گئے اور قلات کی طرف روانہ ہوئے، جبکہ کالعدم بی ایل اے فعال ہونے کے بعد فورسز کو نقصان پہنچایا۔ پڑوسی ملک کے ہینڈلرز کے عزائم دیکھ کر اس کی آنکھوں سے آزادی کی پٹی کھل گئی۔ پڑوسی ملک (بھارت) کی خفیہ ایجنسی کے لوگوں سے ملاقات کے دوران اسے واضح طور پر کہا گیا کہ انہیں بلوچستان کی آزادی سے کوئی غرض نہیں بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سپورٹ کیا جائے گا۔نجیب اللہ نے بتایا تھاکہ دہشت گرد تنظیموں کے لیڈر اور ان کے بچے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ پہاڑوں پر لڑنے والے عام دہشت گرد کو روٹی بھی میسر نہیں، زخمی ہونے کی صورت میں علاج کے لیے چندہ جمع کرنا پڑتا ہے اور کئی مرتبہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے جان بھی چلی جاتی ہے۔ لاپتا افراد کے حوالے سے بھی اس نے کہا کہ پہاڑوں پر روپوش افراد کو ”لاپتا افراد“ کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس نے پہاڑوں پر موجود افراد سے اپیل کی تھی کہ بیرون ملک بیٹھے دہشت گرد تنظیموں کے کمانڈروں کے آلہ کار نہ بنیں اور قومی دھارے میں واپس آئیں۔دوسری جانب کمانڈر عبدالرشید نے انکشاف کیا کہ وہ مکران ڈویژن کے سینئر کمانڈرز میں شمار ہوتا تھا۔ 2009 میں بلوچ لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف)کے اہم ایجنٹ عابد عمران سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی ذہن سازی کی اور وہ دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو گیا، تاہم دہشت گردوں کے عزائم جاننے کے بعد کنارہ کشی اختیار کی۔کمانڈر خالد بشیر نے بھی بتایا کہ وہ دشمن کے بہکاوے پر غلط راستے پر جا رہا تھا اور ریاست نے اسے بچا لیا۔ان تمام انکشافات سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو بلوچستان کے حالات اور محرومیوں کے نام پر ذہنی طور پر متاثر کرکے کالعدم تنظیموں کا حصہ بنایا گیا اور بعدازاں انہیں مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ سعید احمد ولد داد جان اور اویس قدیر نے برین واشنگ کے ذریعے بی ایل اے میں شمولیت اور تربیت کا ذکر کیا، طلعت عزیز نے ذہن سازی کے حوالے فتنہ الہندوستان کی پراکسی بلوچ یک جہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی اصلیت سے بھی پردہ اٹھایا تھا کہ کس طرح اس کوکوئٹہ میں بی وائی سی کے دھرنے میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا اور پھر بی وائی سی کے دھرنے میں اس کی ملاقات بی ایل اے دہشت گردوں سے کرائی گئی، جبکہ نجیب اللہ نے 19 سال دہشت گردوں کے ساتھ گزارنے کے بعد ان کا اصل چہرہ سامنے آنے، بیرونی ہینڈلرز کے عزائم اور تنظیموں کے اندر عام دہشت گردوں کی حالت سے پردہ اٹھایا۔ عبدالرشید اور خالد بشیر کے بیانات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جنہوں نے ذہن سازی، گمراہ کیے جانے اور دشمن کے بہکاوے پر غلط راستے پر جانے کے تلخ حقائق بیان کیے۔ان انکشافات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب ان نوجوانوں اور سابق کمانڈروں کو کالعدم تنظیموں کے مذموم مقاصد، بیرونی ہینڈلرز کے عزائم اور تنظیموں کی حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے اس راستے سے کنارہ کشی اختیار کی۔ آج ترقی کا راستہ یہی ہے کہ بندوق چھوڑ کر قلم تھاما جائے، دہشت گردی سے تائب ہوکر قومی دھارے میں شامل ہوا جائے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔