جنوبی بلوچستان: امن سے خوشحالی کا سفر
جنوبی بلوچستان میرا موضوع اس لیے ہے کیونکہ یہ حساس ترین علاقہ ہے جس کی طویل ترین سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں۔ دوسرا، یہاں سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، سینڈک جیسے قومی اہمیت کے حامل منصوبے موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایک انتہائی چیلنجز سے بھرپور علاقہ ہے۔ یہاں ایک طویل مدت سے محرومیوں اور پسماندگی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ میری اولین خواہش یہی رہی ہے کہ کچھ تخلیق کرنے سے پہلے تحقیق کی جائے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو پہلے تحقیق کر لیا کرو۔ یہی ریسرچ کا شوق ہمیں دوستوں کے ساتھ جنوبی بلوچستان لے گیا۔ وہاں جا کر جو اپنی آنکھوں سے دیکھا، دشمن کی جانب سے کیا جانے والا محرومیوں کا پراپیگنڈا اسی وقت زمین بوس ہو گیا۔
سب سے پہلے تو تربت شہر نے ہمیں متاثر کیا۔ ہماری سوچ یہی تھی کہ لوگ صدیوں پرانے پتھر کے دور میں رہ رہے ہوں گے، جو ہم سنتے آ رہے تھے، مگر تربت مکران ڈویژن اور ضلع کیچ کا ایک خوبصورت اور دلکش شہر ہے، جہاں زندگی کی ہر آسائش میسر ہے۔ تربت میں یونیورسٹی آف تربت، کیڈٹ کالجز، گرلز و بوائز کے اسکولز، جدید ترین آئی ٹی ہب، مکران میڈیکل کالج، بین الاقوامی معیار کا ایف سی ہسپتال، تربت ٹیچنگ ہسپتال (DHQ)، تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے کیچ تھیلیسیمیا سنٹر سرفہرست ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں کے مقامی لوگوں سے ملاقات اور گپ شپ کا موقع ملا۔ یقین کریں، بلوچ واقعی ایک محب وطن اور مہمان نواز قوم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بلوچ عوام اپنی ریاست اور ریاستی اداروں پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی حامی نہیں، بلکہ ایسے لوگوں سے شدید ترین نفرت کرتے ہیں جو دہشت گردی کے ذریعے علاقے کے امن و امان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مجھے پنجگور دیکھنے کا اشتیاق اس لیے تھا کہ اس سرزمین کو صحابہ ؓ کرام کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ روایات کے مطابق یہاں پانچ صحابی رسول ﷺ مدفون ہیں، جس کی وجہ سے اسے پنج گور کہا جاتا ہے۔ یہاں کی کھجوریں اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ غریب آباد میں ایک برگزیدہ بزرگ حضرت شاہو قلندر کا دربار بھی موجود ہے، جسے حال ہی میں ازسرنو تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خدابادان میں خواتین کو ہنر کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے وویمن اسکل ڈویلپمنٹ سنٹر بھی موجود ہے۔ پنجگور ایک تاریخی شہر ہے۔
اس کے علاوہ خاران، تفتان، ماشکیل، تمپ، دشت، دالبندین، چاغی، بلیدہ، ہوشاب، واشک، مند کی سیر و تفریح کا موقع ملا۔ ان شہروں میں بھی بی ایس ڈی آئی کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ نوکنڈی میں جدید طبی سہولیات سے آراستہ انڈس ہسپتال، خاران میں جدید ڈیجیٹل سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ دشت میں گرین پاکستان انیشیٹو کا پائلٹ منصوبہ شروع کیا گیا، جس کے تحت ہزاروں ایکڑ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا گیا، جس سے سیکڑوں خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ دشت میرانی ڈیم پر گرین ایگری مال کا قیام کسانوں کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔ ریاست کی جانب سے جنوبی بلوچستان میں کیے جانے والے ترقیاتی اقدامات واضح دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو فیز I، II کے تحت یہاں مختلف ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں، جبکہ فیز III کے تحت تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں تعلیم، صحت اور روزگار پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
بی ایس ڈی آئی، پرواز فاؤنڈیشن کے تحت اسکول کی تعمیر، تزئین و آرائش، جدید سہولیات سے آراستہ نادرا آفس کا قیام، غیر فعال ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی مرمت و بحالی، ادویات کی فراہمی، واٹر فلٹر پلانٹ اور مقامی افراد کو کاروبار کے لیے مالی معاونت شامل ہے۔
جنوبی بلوچستان کی سیر و تفریح کے بعد غیر جانب دارانہ تاثرات یہ ہیں کہ یہاں کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی، صوبائی حکومت اور خصوصا سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے لیے واقعتا عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اگر جنوبی بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی ہیں تو یہاں بھوک اور ننگ بھی نہیں۔
کسی بھی ملک کی معیشت کی بہتری میں شاہرات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ آج بلوچستان میں سڑکوں کا جال اس بات کا ثبوت ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسائل موجود ہیں، بے روزگاری اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے، مگر مسائل کے ساتھ اسباب بھی موجود ہیں۔ مگر جو چیز نوٹ کی ہے وہ یہ ہے کہ سرحدی علاقوں کے نوجوان تیل کے کاروبار، زمیاد، کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتے، حالانکہ متبادل روزگار موجود ہے۔ جنوبی بلوچستان میں پسماندگی، بے روزگاری اور محرومیوں کا ڈرامہ ان ملک دشمن عناصر کی جانب سے رچایا جا رہا ہے، جن کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنا ہے، کیونکہ تعلیم شعور دیتی ہے، غلامی سے نجات دیتی ہے اور تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان ان کے مذموم مقاصد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس لیے ناخواندہ افراد کو من گھڑت پراپیگنڈے کے ذریعے ریاست کے خلاف آسانی سے بہکایا جاسکتاہے۔
آج تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو دہشت گرد عناصر کی جانب سے کیے جانے والے پراپیگنڈے کو یکسر مسترد کرکے ریاست کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ جنوبی بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سفر مزید تیز ہو سکے۔ یاد رہے کہ: بندوق کبھی تعلیم کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، تشدد کبھی روزگار فراہم نہیں کر سکتا اور دہشت گردی کبھی خوشحالی کا راستہ نہیں بن سکتی۔ تعلیم سوچ دیتی ہے اور نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔
جنوبی بلوچستان کے نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں، تعلیم اور ہنر کو علاقے کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں تو وہ جنوبی بلوچستان کے مستقبل کو بدل سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گمراہ کن پراپیگنڈے کو مسترد کیا جائے اور ان مٹھی بھر دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جائے جو نوجوانوں کو دہشت گردی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ ریاست کے ساتھ مل کرہی امن و خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے جو جنوبی بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔