فتنہ الہندوستان بی ایل ایف کا گوادر میں حملہ ناکام

فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے رواں ماہ 22 اکتوبر کو ضلع گوادر میں ”آپریشن الماس“ کے نام پر ایک تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش کی اور بعد ازاں ہمیشہ کی طرح بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے اس کو (FWO) کے مرکزی کیمپ پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنی پریس ریلیز میں دعویٰ کیا کہ اس کیمپ میں موجود حساس اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں افسران اور اہلکاروں کی شہادت کا جھوٹا پراپیگنڈا کیا گیا۔ ذرا سوچیے کہ ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ میں حساس اداروں کے دفاتر کی موجودگی کیسے ممکن ہے؟ حقیقت میں بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے کبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور جواب دیتے ہوئے اس نام نہاد آپریشن الماس کو دہشت گردوں کی لاشوں میں تبدیل کردیا۔ جوابی کارروائی میں ایک خاتون دہشت گرد بلقیس دیدگ عرف الماس (جس کے نام پر یہ آپریشن کیا گیا) سمیت دس دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔ دہشت گردوں نے بلوچ تاجروں کے اشیائے خوردونوش سے بھرے ٹرکوں کو آگ لگا کر نذر آتش کردیا۔ واضح رہے کہ دہشت گردوں نے ہمیشہ انہی لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ بتائیے کہ ان بلوچ تاجروں کا کیا قصور تھا جن کی گاڑیوں کو جلا دیا گیا؟ بلوچ عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننا کیا بلوچ عوام کا معاشی قتل نہیں؟


اس آپریشن کا مرکزی کردار بلقیس دیدگ عرف الماس کی کہانی انتہائی اذیت ناک ہے۔ الماس کو بی ایل ایف کے تربیت یافتہ سہولت کاروں نے ہنی ٹریپ کے ذریعے گمراہ کیا اور پھر پہاڑوں پر موجود بی ایل ایف کے کیمپ میں پہنچا دیا، جہاں اس معصوم بلوچ بیٹی کو نشہ آور ادویات کھلا کر جنسی استحصال کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں اس کی نازیبا ویڈیو بنا کر اسے زبردستی اس حملے میں شامل کیا گیا۔ واضح رہے کہ 2024 میں تربت سے گرفتار ہونے والی خودکش حملہ آور عدیلہ بلوچ نے انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ایک ہیلتھ پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی کہ بی ایل اے کے ایک تربیت یافتہ سہولت کار نے اسے اپنی محبت کے جال میں پھنسایا۔ پھر پہاڑوں پر لے جا کر اس کے ساتھ تنظیم کے کمانڈروں نے جنسی استحصال کیا اور بعد ازاں اس کی نازیبا ویڈیو بنا کر اسے خودکش حملہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔ راقم نے 29 دسمبر 2025 کو اپنے ایک کالم ”بھارتی پراکسی بی وائی سی! بلوچ خواتین کی بربادی کی ذمہ دار“ میں واضح کیا تھا کہ کس طرح کالعدم تنظیموں کے سہولت کاروں نے شاری بلوچ، سمعیہ قلندرانی، ماہل بلوچ، گنجاتون اور زرینہ رفیق سمیت مختلف خواتین کو گمراہ کرکے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ معصوم صنف نازک کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بلوچ اور اسلامی روایات کے سخت منافی ہے۔ بلوچ مرد تو دوسری اقوام کی خواتین کی حفاظت کے حوالے سے مشہور تھے، مگر آج یہ دہشت گرد بلوچیت کا لبادہ اوڑھ کر بلوچ بیٹیوں کی عزتیں تار تار کر رہے ہیں۔


کالعدم تنظیمیں بیرونی ایجنڈے کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے بدامنی پھیلا کر ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ ترقی خوشحالی کو جنم دیتی ہے اور خوشحالی کے نتیجے میں عوام کے لیے روزگار، تعلیم اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں محرومیوں اور پسماندگی کا بیانیہ دم توڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو من گھڑت کہانیوں اور جذباتی نعروں کے ذریعے گمراہ کرکے انہیں ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے وسائل پر دوسروں کا قبضہ ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ دہشت گردی سے ان کے اپنے خاندانوں کو کیا نقصان پہنچے گا۔ نوجوانوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر انہیں ہتھیار تھما دیا جاتا ہے، جو نوجوان تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان اور علاقے کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، انہیں تشدد کی راہ پر ڈال دینا بلوچ حقوق کی لڑائی نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ بلوچستان کے عوام کے مسائل اور ان کے حقوق اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان مسائل کو بنیاد بنا کر دہشت گردی، قتل و غارت اور عام شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔


اگر کوئی تنظیم واقعی بلوچ عوام کی نمائندہ ہوتی تو عوام کے جان و مال اور روزگار کا تحفظ کرتی۔ ان گاڑیوں میں موجود اشیائے خوردونوش عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لے جائی جارہی تھیں۔ ان گاڑیوں کو آگ لگانے سے نہ کوئی محرومی ختم ہوئی اور نہ ہی عوام کے کسی مسئلے کا حل نکلا۔ اس کے برعکس ان تاجروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، ان کے بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھینا گیا۔ گوادر پاکستان کی معاشی ترقی میں شہ رگ کا مقام رکھتا ہے۔ یہاں سی پیک، گوادر پورٹ اور دیگر قومی اہمیت کے حامل منصوبوں نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ گوادر میں حملہ خالصتاً بھارتی شہ ہے، کیونکہ بھارت کو روز اول سے ہی سی پیک منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھایا۔ اس کے لیے پہلے بھی گوادر میں ملکی و غیر ملکی انجینئرز پر حملے کروائے گئے۔


گوادر میں بی ایل ایف کا نام نہاد آپریشن ”الماس“ سیکیورٹی فورسز نے چند گھنٹوں میں ملیامیٹ کردیا۔ واضح رہے کہ یہ صرف سوشل میڈیا کے جنگجو ہیں جو صرف سوشل میڈیا پر کذب بیانی پر مبنی دعوے کرسکتے ہیں، حقیقت میں سیکیورٹی فورسز کے سامنے ان کی پتلونیں گیلی ہوجاتی ہیں۔ بلوچستان میں عوام کو امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے مواقع میسر ہیں۔ مسائل دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں مگر ان کا حل بندوق نہیں بلکہ تعلیم، ہنر اور اپنی ریاست کا ساتھ دینے میں ہے۔ بھارتی اسپانسرڈ بی ایل ایف اور دیگر کالعدم تنظیمیں یہ جان لیں کہ ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا ٹھان چکی ہے۔ ایسے میں بچاؤ کا واحد حل ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہے اور اگر کسی بھارتی پروردہ دہشت گرد تنظیم کو یہ وہم ہے کہ وہ بلوچستان پر قابض ہوجائے گی تو وہ اپنا وہم دور کرلے، اس وقت بلوچستان کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔