افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت شدید: بدخشان میں حملوں سے کامل کنٹرول کے دعوے بے نقاب

افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت شدید: بدخشان میں حملوں سے کامل کنٹرول کے دعوے بے نقاب

Aug 2, 2026|ویب ڈیسک

کابل/واشنگٹن (ویب ڈیسک): افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی تابڑ توڑ کارروائیوں اور بڑھتے ہوئے اندرونی چیلنجز نے طالبان رجیم کے افغانستان پر مکمل اور بلا شرکتِ غیرے کنٹرول کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ امریکی معتبر تھنک ٹینک 'لانگ وار جرنل' (Long War Journal) نے افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمتی گروہوں کی حالیہ پیش قدمی اور حملوں کی تفصیلی رپورٹ شائع کر دی ہے۔


رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بالخصوص افغانستان کے حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم شمالی صوبے بدخشان میں طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔


بدخشان میں سیکیورٹی صورتحال اور مسلح گروہوں کے حملے

امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق مزاحمتی گروہوں نے بدخشان کے مختلف اضلاع میں طالبان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے:


اہم انتخابی و نظامی حملوں کی تفصیلات

17 جولائی (ضلع یفتلِ سفلی): طالبان مخالف مسلح تنظیم 'سپاہیانِ میہن' نے ضلع یفتلِ سفلی کے مرکزی انتظامی ہیڈکوارٹر پر شدید حملہ کیا اور متعدد گھنٹوں تک ضلعی مرکز پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔


23 جولائی (ضلع زیبک): افغان فریڈم فرنٹ (AFF) نے زیبک کے علاقے میں طالبان کی فوجی یونٹوں کے خلاف متعدد ہدف بنا کر کارروائیاں کیں۔


23 جولائی (ضلع کران و منجان): نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) نے طالبان کی قائم کردہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 1 طالبان جنگجو ہلاک اور 2 شدید زخمی ہوئے۔


"گوریلا سے براہِ راست جنگ کا مرحلہ" — افغان فریڈم فرنٹ

افغان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے لانگ وار جرنل کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں حکمتِ عملی کی اہم تبدیلی کا اعلان کیا۔


داؤد ناجی کا کہنا تھا:


"افغان فریڈم فرنٹ اب روایتی گوریلا جنگی حکمتِ عملی سے نکل کر طالبان رجیم کے خلاف براہِ راست اور آمنے سامنے کی جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔"


طالبان کے لیے اپنی گرفت برقرار رکھنا مشکل

افغان امور کے سینئر صحافی ابومسلم شیرزاد کا کہنا ہے کہ بدخشان اور ملحقہ شمالی اضلاع میں حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اور ان کے مقامی حمیات دانوں کے لیے ان علاقوں میں اپنی گرفت برقرار رکھنا اب آسان نہیں رہے گا۔


مبصرین کے مطابق طالبان مخالف مسلح گروہوں کی متواتر جھڑپوں نے طالبان انتظامیہ کے اس بیانیے کو باقاعدہ چیلنج کر دیا ہے کہ پورا افغانستان ان کے مکمل امن اور کنٹرول میں ہے