طالبان رجیم کے زیر اقتدار افغانستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ اور معاشی تباہی کا شکار

طالبان رجیم کے زیر اقتدار افغانستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ اور معاشی تباہی کا شکار

Aug 21, 2026|ویب ڈیسک

طالبان رجیم کے زیر اقتدار افغانستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ اور معاشی تباہی کا شکار

​کابل / واشنگٹن — امریکی تھنک ٹینک 'دی صوفان سینٹر' نے اپنی تازہ تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی افغان طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان بدستور ایک ناکام ریاست بن چکا ہے، جو بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں اور متشدد انتہا پسند عناصر کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قابض حکومت نے اپنے غیر آئینی اقتدار کو برقرار رکھنے کی خاطر ملک کو بدترین سفارتی تنہائی اور معاشی زوال کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

​تھنک ٹینک کے انکشاف کے مطابق، القاعدہ افغانستان میں قائم اپنے تربیتی مراکز کے ذریعے فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کو منظم عسکری تربیت فراہم کر رہی ہے، جس سے خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

​دہشتگرد نیٹ ورکس، منشیات کی اسمگلنگ اور عالمی تنہائی

​دی صوفان سینٹر کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کے سخت گیر اقدامات اور کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ گٹھ جوڑ نے افغانستان میں لاقانونیت، عدم استحکام اور بین الاقوامی جرائم کو بے پناہ فروغ دیا ہے۔ افغانستان تاحال عالمی سطح پر غیر قانونی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے، جو خطے سمیت عالمی سیکیورٹی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔

​دفاعی و سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی رجعت پسندانہ پالیسیوں، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور خصوصاً خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغانستان کے سفارتی دروازے بند کر کے معیشت کو تباہ کن بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

​ تحقیقی رپورٹ کے کلیدی نکات اور اسٹریٹجک حقائق

​دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ: افغانستان مختلف علاقائی و بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنا ہوا ہے۔

​القاعدہ اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ: افغان سرزمین پر قائم عسکری کیمپس کے ذریعے فتنہ الخوارج کو باقاعدہ تربیت کی فراہمی۔

​منشیات کا بین الاقوامی گڑھ: طالبان کے زیر انتظام ملک اب بھی منشیات کی عالمی اسمگلنگ کا بڑا مرکز ہے۔

​سفارتی و معاشی تعطل: سخت گیر پالیسیوں اور خواتین پر قدغنوں کے نتیجے میں ملک شدید عالمی تنہائی اور معاشی تباہی سے دوچار ہے۔