افغانستان: مختلف صوبوں میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں شدت، بھاری جانی نقصان
**HL:** افغانستان: مختلف صوبوں میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں شدت، بھاری جانی نقصان
**Alternate HL:** طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت تیز، متعدد اہلکار ہلاک اور چوکیاں تباہ
کابل: افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف برسرِپیکار مسلح گروپوں کی کارروائیوں میں اچانک تیزی آ گئی ہے، جہاں متعدد صوبوں میں بیک وقت ہونے والے حملوں کے دوران طالبان فورسز کے درجنوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
طالبان مخالف مسلح تنظیموں 'افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ'، 'نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ' اور 'افغانستان گرین ٹرینڈ' نے ملک کے مختلف حصوں میں طالبان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد اہم کامیابیوں کے دعوے کیے ہیں۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے ترجمان کے مطابق قندھار اور غور میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی ٹارگٹڈ کارروائیوں میں طالبان کے ایک انٹیلی جنس اہلکار اور صوبائی گورنر کے محافظ کو ہلاک کر دیا گیا، جبکہ جھڑپوں میں 8 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔
ادھر نیشنل انڈیپینڈینس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ پکتیا کے ضلع آریوب زازی میں قائم طالبان چوکی پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 7 اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے اور متعدد چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
دوسری جانب، پنجشیر میں افغانستان گرین ٹرینڈ نے کارروائی کرتے ہوئے طالبان کی 2 رینجر گاڑیاں تباہ کر دیں، جبکہ صوبہ کاپیسا میں انٹیلی جنس کے اہم اہلکار ملا عبدالرحمان کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق ان پے در پے حملوں کے بعد کاپیسا اور پنجشیر میں طالبان کا لاجسٹک نیٹ ورک اور سیکیورٹی سپلائی لائن شدید متاثر ہو چکی ہے۔