طالبان کی پابندیاں: افغان معیشت تباہ، لیبر فورس میں خواتین کی شرح گر کر 5 فیصد رہ گئی
کابل / جنیوا: افغان طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں پر عائد سخت پابندیوں نے ملک کی زوال پذیر معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے افغان لیبر مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔
آئی ایل او رپورٹ: افرادی قوت میں خواتین کا تاریخی انحطاط
رپورٹ کے مطابق طالبان کے دورِ اقتدار میں افغانستان کی معیشت میں غیر معمولی سکڑاؤ دیکھا گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر پڑا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق افغانستان دنیا بھر میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کے لحاظ سے دوسری سب سے کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔
اہم معاشی اور لیبر مارکیٹ انڈیکیٹرز:
خواتین کی افرادی قوت میں کمی: قومی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 16.5 فیصد سے کم ہو کر اب صرف 5 فیصد رہ گیا ہے۔
تعلیم و روزگار سے محرومی: افغانستان میں تعلیم، روزگار اور فنی تربیت سے محروم خواتین کی شرح 2020 کے 76 فیصد سے بڑھ کر اب 84 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
مجموعی روزگار میں گراوٹ: ملک میں روزگار اور آبادی کا مجموعی تناسب 2020 کے 36.7 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 32.5 فیصد پر آ گیا ہے۔
صنفی خلیج میں اضافہ: کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں سے خواتین کے اخراج نے مردوں اور خواتین کے درمیان روزگار کے فرق کو تاریخی سطح تک بڑھا دیا ہے۔
آمرانہ اقدامات کے تباہ کن معاشی اثرات
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق طالبان حکومت کی معاندانہ پالیسیوں اور آمرانہ فیصلوں نے پہلے سے کمزور افغان معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک کی نصف آبادی کو معاشی دھارے سے مکمل طور پر بے دخل کر کے کسی بھی قسم کی پائیدار بحالی ناممکن ہے