فتنۃ الہندوستان کی بربریت: کیچ سے اغوا کیے گئے 6 غیر مقامی مزدور شہید
تربت / کیچ — بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ناصر آباد سے اغوا کیے گئے 6 غیر مقامی محنت کشوں کو فتنۃ الہندوستان کے سفاک دہشت گردوں نے بیدردی سے شہید کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام شہداء کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جس کے بعد علاقے میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ دلخراش واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز قبل ہی بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں بھی 5 غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا تھا۔
27 جولائی کے اغوا کا دردناک انجام
اطلاعات کے مطابق 27 جولائی کو ناصر آباد کیچ میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے ایک غیر مقامی مزدور جاوید کو موقع پر شہید جبکہ 6 مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا، جنہیں آج انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
شہید ہونے والے مزدوروں کی تفصیلات:
محمد ارشد (تعلق: پنجاب)
محمد تیمور (تعلق: پنجاب)
محمد پرویز (تعلق: پنجاب)
محمد وزیر (تعلق: پنجاب)
محمد امجد (تعلق: خیبر پختونخوا)
محمد یحییٰ (تعلق: خیبر پختونخوا)
بلوچستان کی ترقی اور امن پر بزدلانہ حملہ
شہید ہونے والے تمام محنت کش بلوچستان میں مختلف عوامی و بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر کے علاقے کی تعمیر و ترقی اور مقامی آبادی کی سہولت کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق: "فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کی بھرپور اور موثر کارروائیوں سے شدید پسپا ہو کر اب معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مزدوروں کو بے رحمی سے نشانہ بنانا ناصرف معصوم جانیں چھیننے کا جرم ہے بلکہ یہ بلوچستان کے امن، روزگار اور خوشحالی پر براہِ راست حملہ ہے۔"
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے علاقے کا گھیراؤ کر کے انسانیت کے ان دشمنوں کی سرکوبی کے لیے بڑے پیمانے پر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
اہم نکات:
افسوسناک جانی نقصان: 6 اغوا شدہ مزدوروں کی شہادت کی تصدیق؛ 4 کا تعلق پنجاب اور 2 کا خیبر پختونخوا سے تھا۔
ترقیاتی کاموں پر حملہ: شہداء خطے کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور تعمیراتی منصوبوں پر مامور تھے۔
سفاکانہ تسلسل: واقعہ ماشکیل میں 5 مزدوروں کی شہادت کے بعد پیش آنے والا دوسرا بڑا دلخراش حادثہ ہے۔
ریاستی ردِعمل: سیکیورٹی فورسز کا علاقے میں سرچ آپریشن جاری، دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعادہ