فرانس میں ہندوتوا تنظیم کا خواتین سے امتیازی سلوک، مودی حکومت کو عالمی سطح پر ہزیمت کا سامنا

فرانس میں ہندوتوا تنظیم کا خواتین سے امتیازی سلوک، مودی حکومت کو عالمی سطح پر ہزیمت کا سامنا

Sep 12, 2026|ویب ڈیسک

پیرس: فرانس میں ایک انتہا پسند ہندوتوا تنظیم کی جانب سے خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیانیے کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بھارتی جریدے 'دی وائر' کے مطابق، فرانس میں انتہا پسند ہندو تنظیم کے خواتین مخالف اقدامات نے مودی حکومت کے 'شائننگ انڈیا' کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین مخالف گروہ سے نریندر مودی کی قریبی وابستگی نے دنیا بھر میں ہندوتوا کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔

دوسری جانب، معروف فرانسیسی جریدے 'لی فگارو' نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انتہا پسند ہندو تنظیم (بی اے پی ایس) کی جانب سے پیش آنے والا یہ واقعہ فرانس کے مساوات اور عدم تفریق کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جریدے کے مطابق اس شرپسند تنظیم کے اقدام نے بھارت کی تنگ نظری کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف بھارتی مصنفہ سریموئی پیو کنڈو کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد بھارت کو عالمی سطح پر ایک خواتین مخالف، متعصب اور تنگ نظر معاشرے کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔

خواتین سے متعلق ہندوتوا تنظیموں کے اس متنازع رویے پر ہونے والی عالمی تنقید نے بھارت کے صنفی مساوات کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔