افغانستان: طالبان کا عدالتی نظام رشوت اور سفارش کی نذر، عوام کا انصاف س
کابل: افغان میڈیا نے طالبان کے عدالتی نظام میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس کے باعث عام شہریوں بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کے لیے انصاف تک رسائی انتہاے اعتبار اٹھنے لگا
ئی مشکل ہو گئی ہے۔
معروف افغان جریدے 'ہشت صبح' کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کی خود ساختہ عدالتوں میں مقدمات کے اندراج، سماعتوں اور فیصلوں میں طویل تاخیر معمول بن چکی ہے۔ اس سست روی اور غیر شفاف طریقہ کار سے تنگ آ کر سائلین اپنے مقدمات سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عدالتوں کے متعصبانہ رویے، سائلین سے ہتک آمیز سلوک اور کھلی بدعنوانی پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔
جریدے نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان ججز بھاری رقوم کے عوض جانبدارانہ فیصلے صادر کر رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف شکایت یا دادرسی کا کوئی مؤثر نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔
دوسریجانب، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے عدالتی نظام میں واضح قانونی ڈھانچے کا فقدان انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک واضح قوانین، آزادانہ نگرانی اور ججوں کے مؤثر احتساب کا نظام وضع نہیں کیا جاتا، افغانستان میں شفاف اور حقیقی انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔