بلوچستان کے علاقے کلی زائیک میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک
کوئٹہ: بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور شرپسند عناصر کی بیخ کنی کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ’فتنہ الہندوستان‘ کے دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع واشک کے علاقے بسیمہ میں ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران 2 دہشتگرد ہلاک جبکہ 3 شدید زخمی ہو گئے۔
بسیمہ اور کاغلی کے درمیانی علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی
سیکیورٹی فورسز کو مصدقہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بسیمہ کیمپ سے 12 کلومیٹر شمال میں واقع کلی زائیک اور کاغلی کے درمیانی پہاڑی اور دشوار گزار علاقے میں دہشتگرد تخریب کاری کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ فورسز نے علاقے کی مؤثر ناکہ بندی کر کے آپریشن کا آغاز کیا تو دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔
ہلاک دہشتگرد کی شناخت اور اسلحہ و بارود کی برآمدگی
شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 2 دہشتگرد موقع پر مارے گئے جبکہ ان کے 3 ساتھی زخمی ہوئے:
ہلاک دہشتگرد کی شناخت: ہلاک ہونے والے ایک دہشتگرد کی شناخت مشتاق احمد عرف کوہ یار کے نام سے ہوئی ہے جو فورسز کے خلاف متعدد سنگین کارروائیوں میں مطلوب تھا۔
بارود اور ہتھیار برآمد: دہشتگردوں کے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں ایمونیشن، مختلف رائفلز کے میگزین، ہینڈ گرنیڈز (دستی بم) اور دیسی ساختہ بم (IED) بنانے کا خام مال برآمد کر لیا گیا۔
صوبے میں پائیدار امن تک کارروائیوں کا عزم
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام اور دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی نان اسٹاپ کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔ علاقے میں ممکنہ سہولت کاروں اور فرار ہونے والے زخمی دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن مزید وسیع کر دیا گیا ہے